کینیڈا کی مسجد کے امام پر حملہ

IQNA

کینیڈا کی مسجد کے امام پر حملہ

6:34 - June 25, 2026
خبر کا کوڈ: 3520368
ایکنا: مسجد کے امام پر ہونے والے حملے نے کینیڈا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے تشویش اور بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایکنا نیوز- روزنامہ الامہ کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا کے شہر وکٹوریہ میں ایک مسجد کے امام، ابراہیم علی پر حملے کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ اسلامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ حملہ اسلام مخالف جذبات کے تحت کیا گیا، جبکہ حکام نے ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

اسلامک ایسوسی ایشن آف برٹش کولمبیا کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شام اس وقت پیش آیا جب امام نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے گھر کے قریب گاڑی میں موجود تھے۔ تنظیم نے بتایا کہ ایک شخص ان کی گاڑی کے قریب آیا اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی، جس کے بعد صورتحال جسمانی جھگڑے میں تبدیل ہوگئی۔

تنظیم کے بیان کے مطابق امام ابراہیم علی نے اس دوران اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی۔ جھگڑے کے بعد مشتبہ شخص موقع سے فرار ہوگیا، تاہم پولیس نے بعد میں اسے گرفتار کر لیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

اسلامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران اسلام مخالف جملے اور نفرت انگیز بیانات بھی دیے گئے، جس کے بعد انسانی حقوق اور اسلامی اداروں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری تحقیقات مکمل ہونے تک اس واقعے کو نفرت انگیز جرم (Hate Crime) کے طور پر دیکھا جائے۔

اسلامک ایسوسی ایشن آف برٹش کولمبیا نے تصدیق کی کہ امام کو سر پر معمولی چوٹ آئی، تاہم وہ اگلے روز نمازِ جمعہ میں شریک ہوئے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

اس واقعے پر کینیڈا میں سرکاری سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا۔ مارک ملر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی کینیڈین معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

کینیڈا کی اسلامی تنظیموں نے بھی مذہبی نفرت پر مبنی واقعات میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیزی کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور مختلف مذہبی برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کینیڈا میں نفرت انگیز جرائم اور امتیازی سلوک کے حوالے سے مسلسل بحث جاری ہے، خصوصاً مذہبی افراد اور اداروں پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد۔

اگرچہ اسلامی تنظیموں نے اس واقعے کو ایک ناقابل قبول اسلاموفوبک حملہ قرار دیا ہے، تاہم پولیس تاحال تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ حملے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے اور یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا اسے باضابطہ طور پر نفرت پر مبنی جرم قرار دیا جائے گا یا نہیں۔/

 

4360131

نظرات بینندگان
captcha