IQNA

17:00 - March 10, 2009
خبر کا کوڈ: 1754458
بين الاقوامی گروپ: شيخ مصطفی اسماعيل كی تلاوت قرآن میں خلوص نيت پروردگار كی عنايت كا سبب تھا۔ استاد ايك متواضع فرد تھے اور اپنے ہم عصر قراء كے بر عكس تلاوت قرآنی كی خاطر وہ اجرت طے نہیں كرتے تھے بلكہ ايسا كرنے كو قاری كے لیے عظيم مصيبت قرار ديتے تھے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا"كی رپورٹ كے مطابق مصطفی اسماعيل مصری قاريوں میں سے انتہائی اچھے قاری قرآن تھے اور انكا اسلوب تلاوت ايك خاص اہميت كا حامل تھا۔ وہ سابقہ قراء كی تقليد كیے بغير اپنے نئے اسلوب پر تلاوت كيا كرتے تھے اور دنيائے اسلام كے كئی قراء ان كے مقلد شمار ہوتے ہیں۔ اب مصطفی اسماعيل ايك مدرسہ اور ايك اسلوب قرائت كا نام بن چكا ہے۔ لبنانی رہنما اور جہت قرآن كے انچارج نے ايكنا سے بات چيت كرتےہوئے ان كے حالات زندگی پر مختصر طورپر روشنی ڈالی اور ان كا خاص اسلوب تلاوت اور اس كی صفات كا تذكرہ كيا ہے ان كا كہنا تھا كہ استاد مصطفی اسماعيل جب ايسی آيات كی تلاوت كرتے كہ جن میں عذاب كا تذكرہ ہوتا تھا تو اسلوب " صبا" سے استفادہ كرتے اور تلاوت میں جذابيت كو بڑہانے كے لیے كبھی "صبا" سے " عجم" میں انداز تبديل كرتےتھے۔
373765

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: