IQNA

9:46 - December 10, 2017
خبر کا کوڈ: 3503923
بین الاقوامی گروپ: ویسے تو یورپی ممالک میں مسلمان خواتین کی جانب سے اسکارف یا نقاب پہننے پر بھونچال آجاتا ہے،جب کہ متعدد ممالک نے تو اس پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق برطانوی ماہرین صحت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ’اسکارف‘ یا ’نقاب‘ سردیوں میں پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں سمیت ’استھما‘ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ ’استھما‘ کو اردو میں ’دمہ‘ کہا جاتا ہے، اس بیماری میں مبتلا افراد کو سانس لینے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں ہوا، آلودگی اور ٹھنڈک انسان کے ناک اور منہ کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہوکر پیٹ کے اندرونی اعضاء کو متاثر کرتی ہے، جس وجہ سے نزلہ، زکام، الرجی اور استھما جیسے مسائل ہوتے ہیں۔

 

برطانیہ کی استھما سوسائٹی نے سردیاں شروع ہوتے ہی ’اسکارف کے ذریعے زندگی کا تحفظ‘ نامی ایک مہم شروع کی، جس میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اسکارف استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکارف کے استعمال سے ٹھنڈی ہوا یا آلودگی ناک اور منہ میں داخل نہیں ہوتی، یا اس عمل کے بعد انتہائی کم مقدار میں یہ چیزیں انسانی جسم میں داخل ہوتی ہیں، جس وجہ سے ’استھما‘ کے مریض سردیوں میں بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

 

ماہرین نے اپنی مہم میں لوگوں پر واضح کیا کہ ’اسکارف‘ یا ’نقاب‘ استھما سمیت دیگر مرضوں کی دوائیوں کا نعمل بدل نہیں، تاہم یہ استھما سمیت دیگر موسمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے مددگار ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اسکارف نہ صرف ہوا ہی نہیں بلکہ اڑنے والی دھول اور مٹی کو بھی ناک اور منہ میں جانے سے روکتا ہے، جو زیادہ تر استھما یا سانس لینے میں دشواری کا باعث بنتی ہیں۔

 

خیال رہے کہ ’استھما‘ (دمہ) سانس کی نالیوں کے سکڑ جانے یا ان میں دیگر خرابیاں پیدا ہونے کے باعث ہوتی ہے۔

 

دمہ کے مریضوں کو ٹھنڈی ہوا سمیت مٹی اور دھول میں بھی سانس لینے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔

 

اس بیماری میں مبتلا افراد کو الرجی ہوتی ہے، جس وجہ سے جانوروں، پودوں اور دیگر جانداروں کے باعث بھی انہیں سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

 

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 25 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، جن میں 70 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

 

پاکستان میں بھی دمہ کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد بستی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: