IQNA

13:56 - December 27, 2017
خبر کا کوڈ: 3503997
بین الاقوامی گروپ:مقاومت صرف مسلح جدوجہد کا نام ہے۔ پوری امت اسلامی پر لازم ہے کہ مزاحمت کرے، امت کا ہر فرد اپنے مخصوص اور محدود وسائل کے ہمراہ اپنی حد تک مقاومت کر سکتا ہے۔

ایکنا نیوز-اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے نائب سرپرست حجت الاسلام و المسلمین شیخ نعیم قاسم نے ایرانی اخبار قدس آنلائن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ہر قسم کی مزاحمت کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔ ثقافتی، سیاسی، تربیتی، معاشرتی تمام اقسام کی مزاحمت کی ضرورت ہے تاکہ ہم دشمن کی سافٹ وار کا مقابلہ کرسکیں۔ اسرائیل کے سامنے مزاحمت میں ان تمام مزاحمتی شعبوں سے مدد لی جاتی ہے۔ اسلامی اقوام میں سے بعض قومیں جغرافیائی اعتبار سے اسرائیل سے نزدیک ہیں اور بعض ایسی اقوام ہیں جو جغرافیائی اعتبار سے دور ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کس طرح اس مزاحمتی تحریک میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ یہ لوگ مالی مدد کے ذریعے یا ثقافتی میدان میں مزاحمتی تحریک چلا کر اس اسرائیل مخالف مزاحمتی تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں۔

شیخ نعیم قاسم نے داعش کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش عراق کے شہر موصل اور شام کے شہر رقہ میں اپنی نام نہاد خلافت اور حکومت بنانے میں سخت ناکام رہی ہے۔ اسی طرح داعش کی حکومت بنانے کی کوشش لبنان کے علاقے ارسال میں بھی ناکام ہوئی ہے۔ آج کے دن دنیا بھر میں کسی بھی علاقے میں داعش کی حکومت کا کوئی نشان باقی نہیں ہے جبکہ ان کی توقع یہ تھی کہ عراق اور شام کے بعد داعش دوسرے ممالک کو بھی فتح کرے گی، لیکن داعش کی نام نہاد حکومت کی مکمل شکست کے بعد اب اس گروہ کا وجود بھی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ داعش کی فکر جو تکفیری فکر تھی وہ مکمل طور پر شکست کھا چکی ہے، چونکہ یہ فکر اور یہ نظریہ اب کبھی بھی اپنے آپ کو حقیقی اسلام کے مقابلے میں ایک اسلامی تحریک کے عنوان سے پیش نہیں کرسکتا۔

حزب اللہ کے نائب سرپرست کا اس سوال کے جواب میں کہ امریکی صدر ٹرامپ نے حال ہی میں قدس کو صیہونی حکومت کا دارالخلافہ مانا ہے، امریکہ کے اس فیصلے کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی ہے کہنا تھا کہ جب تک مقاومت کا بلاک موجود ہے اور ریبر معظم انقلاب امام خامنہ ای حفطہ اللہ اور ایران اور وہ تمام جو فلسطین کے اندر اور باہر مقاومت کر رہے ہیں موجود ہیں ہمیں کسی قسم کی فکر اور پریشانی کی ضرورت نہیں ہے اور انشاء اللہ ایک دن فلسطین آزاد ہو گا۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: