IQNA

9:21 - October 19, 2019
خبر کا کوڈ: 3506757
بین الاقوامی گروپ: حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکام کی طرف سے حالیہ لاک ڈان کے دوران شہریوں، سیاست دانوں اور یہاں تک کہ بچوں کو جبری حراست میں لینے کی واضح دستاویز ات پیش کی ہیں ۔

ایکنانیوز- ڈان نیوز کے مطابق پچھلے چھ ہفتوں میں مقبوضہ کشمیر میں مختلف لوگوں سے بات چیت کرنے کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ تیار کی ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر کسی الزام یا مقدمے کی گرفتاری کے تمام نظربندوں کو فوری رہاکیا جائے۔ایمنسٹی انڈیا نے مقبوضہ کشمیرمیں 21 افراد سے انٹرویو کیا ، جن میں حراست میں لیے گئے افراد اور ان کے وکلا ، طبی پیشہ ور افراد ، مقامی صحافی اور سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہےکہ اگرچہ کچھ موبائل نیٹ ورک کو بحال کردیا گیا ہے لیکن مقبوضہ جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ سروسز دستیاب نہیں ہیں،عوام کی آمدورفت کے راستے بند رکھنے سے لوگ گھروں تک محدود ہیں اور مواصلات پر پابندی کا جموں و کشمیر میں صحت کی دیکھ بھال اور آزادی صحافت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں پر وحشیانہ طاقت کے استعمال کی بھی نشاندہی کی ہے ۔ ایمنسٹی نے جن لوگوں سے بات چیت کی ، ان میں سے تقریبا ہر فرد کو مار پیٹ اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا ، ان میں سے بہت سے افراد کو شدید تشدد یا دیگر ظالمانہ ، غیر انسانی اور ہتک آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ایمنیسٹی کو لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کے گھروں کو توڑ ا ، جان بوجھ کر املاک کو نقصان پہنچایا اورخاندان کے افراد کو دھمکیاں دیں۔زیر حراست لوگوں کے بیشتر معاملات میں ، زیر حراست افراد کے وکیلوں اور خاندان کے افراد کو گرفتاری کی بنیاد اور ان کے موکلوں اور رشتہ داروں کے بارے میں نہیں بتایا جاتا ۔ زیر حراست افراد کے لواحقین اور وکیل کے ساتھ معلومات شیئر کرنے سے انکار ، قیدیوں کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ ، آکر پٹیل نے کہاکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل (انڈیا )کی تیار کی گئی دستاویزات سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کشمیر میں اٹھنے والی آوازوں ، جن میں منتخب رہنما بھی شامل ہیں، کو روکنے کے لئے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خوف اور انتقام کی فضا نے وادی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کر رکھا ہےاور اس تاثر میں جبری نظربندیوں سے مزید اضافہ ہورہا ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: