IQNA

11:04 - June 29, 2020
خبر کا کوڈ: 3507833
تہران(ایکنا) امریکی میگزین کے مطابق سعودی الاینس کو انسانی حقوق کے بلیک لسٹ سے مستثنی قرار دیا جاتا ہے اور دوسری جانب ان کے لیے امدادی سامان ارسال کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نسل انسانی کی بقاء کے لیے بنائی گیی ہے تاہم ادارے کے اراکین جو یمن میں جنگ کے حوالے سے امریکہ کو جنگ بندی کے لیے تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے یمن میں مظالم کے حوالے سے آنکھ بند کردی ہے اور یمن میں بچوں کی ہلاکت اور خطرات سے عدم توجہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

 

یمنی رہنما «جیهان حکیم»، «جو ہاتھ یمن میں مدد کی بات کرتا ہے وہی ہے جو یمن میں بچوں کو مارنے والو کی مدد کرتا ہے.»

 

امریکن میگزینin these times» چاپ شیکاگو لکھتا ہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم یمن میں جنگ میں مصروف سعودی الاینس سے چشم پوشی کررہی ہے۔

 

مقالہ نگار«ساره لازار» کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے یمن میں جنگ کے پانچ سالوں میں بربادی کرنے والے ملک سعودی کو استثناء قرار دیا ہے. دیگر تمام انسانی حقوق کے اداروں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہیں۔

 

رائٹر کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۶ کو بھی اس ادارے نے سعودی کی طرف سے امداد بند کرنے کی دھمکی کے بعد انکو بچوں کو قتل کرنے کی فہرست سے نکال دیا اور یہ سب کچھ مالی مفاد کے لیے کیا جارہا ہے۔

 

لازار نے کہا ہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ نے آن لاین فنڈ ریزنگ پروگرام کیا جس کا مقصد یمن کے لیے مدد جمع کرانا تھا حالانکہ یمن میں بربادی سعودی الاینس کررہا ہے۔

 

سعودی نے سال ۲۰۱۵ سے یمن پر حملوں کا آغاز کیا ہے اور اس کی وجہ سے لاکھوں یمنی دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

3907294

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: