IQNA

8:34 - July 22, 2020
خبر کا کوڈ: 3507962
تہران(ایکنا) عالمی شہرت یافتہ مصری قاری شیخ محمود علی البنا ۱۷ دسامبر ۱۹۲۶ کو مصرکے صوبہ «منوفیه» کے شہر شبین الکوم» کے گاوں«شبرا باص» میں پیدا ہوئے۔

مصری قاری محمود علی البنا مصر کے دس بہترین قاریوں میں شمار ہوتا ہے جنکی  ۲۰ جولائی کو پینتیسویں برسی تھی۔

 

مصر کی انجمن قرآء کے ترجمان محمد الساعاتی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا: شیخ محمود علی البنا مصر کے قرآنی سفیر کے طور پر جانا جاتا تھا جنہوں مصر کی نمایندگی میں دنیا کے مختلف ملکوں کا دورہ کیا تھا۔

 

انکا کہنا تھا: انہوں نے ۴۰ سال دنیا کے مختلف ملکوں کا مسلسل دورہ کیا اور ہرجگہ تلاوت کی آواز سے لوگوں کو محظوظ کیا. الازهر کی جانب سے بھی وہ مختلف ممالک کے سیمینارز میں گیے اور قرآنی جج کے طور پر بھی خدمات انجام دیے۔

 

زہانت میں بے مثال

مصری انجمن قرآء کے ترجمان کے مطابق شیخ بنا مختلف حکمرانوں کی دعوت پر بھی تلاوت کے لیے جاتے تھے اور مافوق الفطرت نکات بیان کرتے جیسے ایک بار جب ان سے کہا گیا کہ وہ شیخ متولی الشعراوی کی عیادت کرے جو بیمار ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ فلا جگہ کی سفر سے ابھی آئے ہیں اور جب معلوم کیا تو بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔ شیخ البنا نے ایک شخص «الجمل» کی موت کی خبر دی اور صرف چند گھنٹے بعد وہ بغیر کسی بیماری کے دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

قرآنی سفیر «محمود علی البنا» کی یاد میں+ فلم

الساعاتی کے مطابق شیخ بنا نے موت سے چند روز پہلے اپنے بیٹے احمد سے کاغذ و قلم طلب کیا اور کہا لکھو: میں ۶۰ سال کی عمر میں دنیا سے میں رخصت ہونگا، بیٹے نے از راہ مذاق کہا کیوں نہ لکھوں اسی سال، شیخ البنا نے کہا بیٹا میری موت قریب آچکی ہے۔

 

انکا کہنا تھا: محمود علی البنا نے تمام اموال اپنی اولاد میں تقسیم کی اور وصیت کی کہ تلاوت کی کیسٹ انکی قبر میں انکے ساتھ دفن کیا جاَئے تاکہ انکا مونس بنے. شیخ البنا  ۲۰ جولائی ۱۹۸۵ کو دنیا سے رخصت ہوئے اور انکو «شبرا باص» انکے آبائی علاقے میں دفن کیا گیا۔

قرآنی سفیر «محمود علی البنا» کی یاد میں+ فلم

میراث

انجمن قرآء مصر کے مطابق انکی کئی تلاوت و تجوید کی یادگار کیسیٹیں موجود ہیں جو مختلف ممالک میں ریکارڈ کیے گیے ہیں۔

انکا کہنا تھا: شیخ البنا نے دوروں کے دوران حرمین شریفین یا مکه و مدینه، عربی اور یورپی ممالک میں تلاوت کیے اورانکی کوششوں سےانجمن قاریان مصر سال ۱۹۸۴ وجود میں آئی۔

 

الساعاتی کے مطابق انکی وفات کے بعد مصری حکومت نے شیخ البنا کے بیٹے انجنیر «شفیق محمود علی البنا» کو سال ۱۹۹۰ میں انکے والد کی خدمات کے اعتراف میں علمی-ثقافتی اعلی ایوارڈ سے نوازا اور شہر طنطا کے ایک ہائی وے کو انکے نام سے منسوب کیا گیا۔/

3911752

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: