IQNA

13:41 - December 02, 2020
خبر کا کوڈ: 3508577
آذربائیجان سے شکست کے بعد آرمینیا میں شدید غم و غصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے اور اس حوالے سے امریکا میں شائع ہونے والے آرمینیائی اخبار نے اپنے اداریے میں ایٹم بم کے استعمال پر زور دیا ہے۔

گزشتہ دنوں 6 ہفتوں کی لڑائی میں آرمینیا کو آذر بائیجان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی ہے اور 3 دہائیوں سے قابض آرمینیائی فوج کو ’نگورنو کاراباخ‘ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس شکست کے بعد امن معاہدے کے تحت کئی بڑے شہر آرمینیا کو خالی کرنے پڑے ہیں جن میں اغدام اور لاچین شامل ہیں جبکہ آرمینیائی عوام حکومت کے امن معاہدے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

ا

سی حوالے سے امریکا میں شائع ہونے والے آرمینیائی اخبار ’اسباریز‘ نے اداریے میں آذربائیجان سے شکست کا بدلہ لینے کی ترغیب دی ہے اور ایٹم بم کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اخبار کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ آرمینیائی حکومت آذربائیجان کے خلاف کوئی بھی جوہری ہتھیار استعمال کرے او ر آذری دارالحکومت باکو کو اگلے 5 ہزار سال کیلئے ’بنجر زمین‘ میں بدل دے۔

دوسری جانب امریکی شہر لاس اینجلس میں آذربائیجان کے قونصلر جنرل نے اخبار کے اداریے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور مقامی انتظامیہ سے امریکی قوانین کے تحت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ میں سب سے زیادہ جانی نقصان آرمینیا کا ہوا ہے اور اس کے ہزاروں فوجی مارے گئے ہیں۔

امن معاہدے میں کیا طے ہوا؟

خیال رہےکہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے آرمینی فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا اور اس پر فریقین میں متعدد جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔

تنازع پر حالیہ لڑائی ستمبر میں شروع ہوئی تھی اور تقریباً 6 ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ میں دونوں جانب کے سیکڑوں افراد ہلا ک ہوئے جب کہ آرمینیا نے اپنے 2317 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، خونریز جھڑپوں کے بعد بالآخر گذشتہ دنوں روس کی معاونت سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا ہے، اس امن معاہدے کو آذربائیجان کی فتح قرار دیا جارہا ہے۔

 

معاہدے کے مطابق آرمینیا کے قبضے سے حالیہ جنگ میں چھڑائے گئے علاقے آذربائیجان کے پاس ہی رہیں گے اور دیگر نواحی علاقوں سے بھی آرمینیائی فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔

 

یہ وہ علاقے ہیں جہاں 1993میں آرمینی افواج کے قبضے سے قبل ہزاروں آذری مسلمان آباد تھے اور انہیں مجبوراًیہاں سے آذربائیجان کے محفوظ علاقوں کی جانب ہجرت کرنا پڑی تھی۔

 

معاہدے کے تحت علاقے میں روسی فوج کے امن دستے کے 1960 اہلکار کاراباخ بھیجے گئے ہیں جو دونوں ممالک میں امن قائم رکھ سکیں گے اور یہ آرمینیا کو کاراباخ کے دارالحکومت خان کندی سے ملانے والی راہداری میں 5 سال تک رہیں گے جبکہ اس دوران قیدیوں کا بھی تبادلہ کیا جائے گا۔

 

اس معاہدے کے بعد مذکورہ علاقے میں روسی فوج موجود ہے۔ آذری صدر کے مطابق ترکی بھی اس علاقے میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور اس کے بھی امن دستے یہاں تعینات ہوں گے۔

 

235970

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: