IQNA

آر ایل ڈی کے نئے سربراہ جئینت چودھری
18:15 - June 14, 2021
خبر کا کوڈ: 3509555
تہران (ایکنا) صحت ‘ تعلیم اور ترقی ایجنڈہ ہوگا ، کسانوں سے سرد مہری بی جے پی کو مہنگی پڑے گی، آر ایل ڈی سربراہ جئینت چودھری

سیاست نیوز کے مطابق یہ واضح کرتے ہوئے کہ احتجاجی کسانوں سے بی جے پی کی سردمہری اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اس کیلئے نقصان کا باعث ہوگی راشٹریہ لوک دل کے سربراہ جئینت چودھری نے  کہا کہ لو جہاد یا گئو دہشت گردی جیسے مصنوعی مسائل انتخابات میں کام نہیں کرینگے اور ترقیاتی کا ایجنڈہ کامیاب رہے گا ۔ جئینت چودھری نے کہا کہ لو جہاد ‘ گئو دہشت گردی ‘ کیرانہ نقل مقامی اور دوسرے بیکار مصنوعی مسائل کو مسترد کردیا جائیگا ۔ نگہداشت صحت ‘ تعلیم اور متوازن ترقی کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ اب جبکہ بنگال انتخابات کے بعد ساری توجہ آئندہ سال انتہائی اہمیت کے حامل اترپردیش کے اسمبلی انتخابات 2022 پر مرکوز ہوگئی ہے آر ایل ڈی کے نئے سربراہ جئینت چودھری نے یہ واضح کیا کہ ان کی پارٹی فرقہ وارانہ تقسیم کی انتخابی تشہیر کو ریاست کا ماحول پراگندہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے اچھے روابط ہیں اور دونوں کے مابین ایک مستحکم ورکنگ رشتہ بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کیلئے رسمی اتحاد کو قطعیت دینے کی ضرورت ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا اترپردیش میں مہاگٹھ بندھن کی ضرورت ہے اور کیا بی ایس پی اور کانگریس اس طرح کے کسی اتحاد کا حصہ ہوسکتے ہیں مسٹر چودھری نے کہا کہ ان کیلئے مسائل کی اہمیت ہے اور ان پر تمام اتحادی شراکت داروں میں اتفاق پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد میں کس کو شامل کیا جاسکتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کون کون دیانتداری کے ساتھ مشترکہ دائرہ کار پر کام کرنے تیار ہے ۔ ریاست میں چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے مستقبل اور کابینہ میں رد و بدل کی قیاس آرائیوں پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ صرف بات چیت کا دکھاوا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل انجینئرنگ صرف ایک یا دو قائدین کو شامل کرتے ہوئے نہیں کی جاسکتی ۔ یہ حقیقت ہے کہ اترپردیش کی حکومت ذات پات تک محدود ہوگئی ہے اور اس نے روزگار فراہم نہیں کئے ہیں۔ معاشی ترقی نہیں کی ہے ۔ عوام کو موثر حکمرانی فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ کورونا سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت نے جو کام کئے ہیں وہ بالکل معمولی ہیں اور ناقص رہے ہیں۔ گنگا میں نعشیں بہنے کے منظر کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اب ساڑھے چار سال بعد قیادت میں تبدیلی کی افواہیں پھیلانا در اصل اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ناقص کوشش ہے ۔ زرعی قوانین کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ کسان ہمارے ملک میں ہمیشہ ہی اہم ترین انتخابی مسئلہ ہونے چاہئیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جسے طویل عرصہ سے اس کے حقوق نہیں دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے جو نئے قوانین ہیں وہ ساری مارکٹ پر قبضہ اور خانگی شعبہ کی اجارہ داری سے متعلق ہیں۔ ان کو کسان پسند نہیں کرتے اور احتجاجی کسانوں سے بی جے پی کی جو دوری اور لا پرواہی ہے وہ اسے انتخابات میں مہنگی پڑسکتی ہے ۔

source:siasat

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: