IQNA

10:09 - September 16, 2021
خبر کا کوڈ: 3510237
مشیر سلامتی امور نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق دنیا کی ویٹ اینڈ واچ (انتظار اور دیکھو) پر مبنی پالیسی کو ناقص حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا رویہ جنگ زدہ ملک کو مزید معاشی تباہی کی جانب دھکیل دے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ ’انتظار کرو اور دیکھو کا مطلب تباہی ہے‘۔

انہوں نے باور کرایا کہ مغرب ممالک نے 1990 کی دہائی میں وہی غلطی کی جس کے تنائج معاشی تباہی، خانہ جنگی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی صورت میں ہمارے سامنے آئے۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ مغربی رہنماؤں نے غلطی تسلیم کر لی ہے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا۔

تاہم عالمی برادری افغانستان میں نئی انتظامیہ سے تعلقات استور کرنے میں تذبذب کا شکار ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا کہ انسانی امداد محض ایک عارضی اور جزوقتی انتظام ہے جو کہ گورننس، ادارہ جاتی اور اقتصادی تعاون کے برابر نہیں جو حقیقنی معنوں میں افغانستان کو درپیش مشکلات سے نکلنے کے لیے درکار ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان موجودہ بحران میں طالبان حکومت کا سب سے زیادہ حامی رہا ہے، اس نے نہ صرف امدادی سامان افغانستان ارسال کیا بلکہ طالبان کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کیے جانے کی بھی وکالت کی۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس طالبان حکومت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اتنے وسائل ہیں اور نہ ہی وہ اسے بذات خود قانونی حیثیت دے سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کوایسا کرنا چاہیے۔

معید یوسف نے بتایا کہ مغرب حال ہی میں طالبان کے ساتھ مختلف مراحل میں مصروف رہا، ان کی مصروفیات کے نتیجے میں دوحہ معاہدہ ہوا اور سابق افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد غیر ملکی شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری طالبان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے خدشات پر بات کرنے کو اپنا قومی مفاد سمجھتی ہے، انہیں اپنے خدشات پر براہ راست طالبان سے بات کرنی چاہیے، جس میں انسانی حقوق، جامع حکومت یا دیگر مسائل بھی زیر بحث آنے چاہیے۔

معید یوسف نے کہا کہ اگر دنیا اس گفتگو میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے نئی (طالبان کی) نئی حکومت کے ساتھ براہ راست ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان چھوڑنے کے نتائج بھیانک ہوں گے، اور ملک ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے کابل سے تعلقات ترک کیے تو تو (افغانستان میں) ایک سیکیورٹی خلا پیدا ہو جائے گی، آپ پہلے ہی جانتے ہیں کہ دہشت گرد داعش وہاں پہلے سے موجود ہے، پاکستانی طالبان اور القاعدہ بھی وہاں ہے، ہم سیکیورٹی ویکیوم کو کیوں خطرے میں ڈالتے ہیں؟

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: