IQNA

بحرینی ایکٹویسٹ ایکنا سے:
7:55 - November 22, 2021
خبر کا کوڈ: 3510700
تہران(ایکنا) شیخ علی الکربابادی کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور سعودی بادشاہوں میں منظرعام پر لائے گئے خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ کسطرح سے اس گمراہ تحریک سے وہ سیاسی استفادے پر تاکید کرتا ہے۔

ایکنا نیوز سے گفتگو میں بحرینی ایکٹویسٹ شیخ علی الکربابادی نے شدت پسندی اور بالخصوص وہابیت سے سیاسی استفادے کا ذکر کیا۔

انہوں نے اس شدت پسندانہ پروجیکٹ سے مقابلے پر تین نکات کا ذکر کیا۔ ذات و فطرت کی تقویت، علمی مضبوطی اور دوسروں سے رابطہ کی ضرورت۔

 

انکا کہنا تھا کہ استکباری طاقتیں ان تنظیموں کی جہالت و گمراہی سے استفادہ کرتے ہیں اور میں ان تنظیموں کو مذہبی نہیں بلکہ سیاسی گروپس کہونگا جن سے دشمن استفادہ کررہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ مغرب اور استعماری طاقتوں کے سیاسی استفادے کا اندازہ ان خطوط سے ہوتا ہے جو برطانیہ اور

سابق سعودی بادشاہ عبدالعزیز آل سعود کے درمیان تبادلہ ہوا جنمیں برطانیہ وہابیت کے حوالے سے کہتا ہے «ہم جانتے ہیں کہ تکفیری لوگ درست نہیں دوسروں کو قتل کرتے ہیں اور یہ درست راستہ نہیں مگر ہم ان سے سیاسی فایدہ اٹھاتے ہیں».

الکربابادی کا کہنا تھا: دشمن ان نادان اور جاہل گمراہ ٹولوں سے جن کو سیاسی ٹولہ کہنا بہتر ہوگا بہ نسبت مذہبی عنوان دینا، وہابیت جہل و حماقت کی کھلی تصویر ہے داعش اس کی مثال ہے جو مکمل طور پر فطری اصول سے متصادم نظر آتی ہے۔

 

بحرینی ایکٹویسٹ کا کہنا تھا کہ ان تکفیریوں کی ترویج سے مغرب اسلام کو بدنما چہرہ پیش کرنا چاہتی ہے اور آج مغرب میں بھی انکا اثر بڑھ رہا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ درست اسلام کے چہرے کو نمایاں کیا جائے جو فطرت کے مطابق سراسر رحمت و مہربانی ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ بلاشک وہابیت امریکہ اسلحوں سے اخوان المسلمین کا مقابلہ کررہی ہے اور امریکہ انہیں کے زریعے سے استفادہ کررہا ہے۔

الکربابادی نے داعش کو میڈ ان امریکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہلیری کلنٹن اعتراف کرتی ہے کہ داعش امریکہ پیسوں سے بنی ہے اور اب بھی انکی حمایت سے دیگر ممالک میں انکو پھیلانے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔/

گفتگو: جواد پارسامهر

ترجمه: الهام مؤذنی


4001654

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: