IQNA

16:46 - January 20, 2022
خبر کا کوڈ: 3511149
لاہور کے مشہور انارکلی بازار میں بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 22 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

ڈان نیوز کے مطابق لاہور پولیس کے بیان میں ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت سلنڈر دھماکا بتائی گئی تاہم بعد میں لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف نے تصدیق کی کہ بم ایک موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ موٹر سائیکلز میں آگ لگ گئی۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے جائے وقوع پر پہنچ کر زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی اور انہیں قریبی واقع میو ہسپتال منتقل کیا۔

میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی دیں۔

دھماکے کے اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چٹھہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی فیضان احمد میو ہسپتال پہنچ گئے۔

ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ نے سول ڈیفنس افسر کو انار کلی میں بم ڈسپوزل اسکواڈ تعینات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ انار کلی بازار کی مکمل سویپنگ کی جائے۔

بعد ازاں جائے وقوع کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دھماکے میں 3 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ میو ہسپتال کی ایمرجنسی ریڈ الرٹ پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکا انارکلی بازار کی آخری لائن میں سرکلر روڈ کے قریب ہوا، دھماکا خیز مواد علاقے میں بینک کے باہر پارک ایک موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

ڈی سی لاہور کا کہنا تھا کہ فی الوقت نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، پنجاب فرانزک ایجنسی، سیف سٹی اتھارٹی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ مل کر دھماکے کی نوعیت کا تعین کریں گے۔

ڈی آئی جی آپریشز ڈاکٹر عابد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر ڈیڑھ فٹ کا گڑھا پڑ گیا جبکہ دھماکے کی نوعیت کا جائزہ لینے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا جو شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔

کالعدم جماعت نے ذمے داری قبول کر لی

کالعدم جماعت بلوچ نیشنلسٹ آرمی نے لاہور میں ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی۔

وزیر اعلیٰ کا نوٹس

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انارکلی بازار میں دھماکے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ واقعے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

وزیراعلی نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے ذمہ داروں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: