IQNA

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنیوالی ہے

22:14 - June 16, 2022
خبر کا کوڈ: 3512082
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور تیزی سے بلند ہوتی مہنگائی کی شرح اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو عارضی طور پر ’’چارج‘‘ دیا گیا ہے، یہ لوٹ مار کرکے رخصت ہو جائیں گے اور پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے۔
ایران، چین، ترکی، پاکستان اور روس نے مل کر ایک نیا بلاک بنانے کا پلان سوچا تھا، لیکن یہ پانچوں ملک باتیں ہی کرتے رہ گئے اور امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور یو اے ای نے بلاک بنا بھی لیا ہے۔ اس نئے بلاک کا نام ’’آئی ٹو یو ٹو‘‘ رکھا گیا ہے۔ آئی 2 سے مراد انڈیا اور اسرائیل ہیں، جبکہ یو ٹو سے مراد یو ایس اے اور یو اے ای ہیں۔ بھارت میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر احمد البناء نے اس نئے بلاک کو مغربی ایشیائی کواڈ کا نام دیا تھا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ چار رکنی اس نئے بلاک کا پہلا اجلاس جسے ’’سربراہی کانفرنس‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کی میزبانی میں ہوگا۔ یہ کانفرنس ورچوئل ہوگی۔ امریکی صدر جوبائیڈن آئندہ ماہ 13 سے 16 جولائی کو مشرق وسطیٰ کے دورے کیلئے نکل رہے ہیں اور یہ کانفرنس بھی اسی دورے کے دوران ہوگی۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکی صدر جوبائیڈن اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران پاکستان کا بھی دورہ کریں گے، مگر اس دورے کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
 
♦️اس نئے بننے والے بلاک آئی ٹو یو ٹو کی اس کانفرنس میں جوبائیڈن کے علاوہ بھارت سے نریندر مودی، اسرائیل سے وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہیان شریک ہوں گے۔ اس مجوزہ کانفرنس میں علاقائی صورتحال، بالخصوص افغانستان، پاکستان اور ایران کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ بظاہر اس کے ایجنڈے میں فوڈ سکیورٹی سرفہرست ہے، لیکن حقیقت میں یہ عنوان برائے نام ہے، اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔ یہ چار یار خطے کی تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال پر نئی پالیسیاں تشکیل دے کر اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ انڈیا افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ گذشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل میں اس ’’بلاک‘‘ کے حوالے سے خصوصی اجلاس بھی ہوچکا ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کیلئے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت اس گروپ کا نام ’’معاشی تعاون کیلئے عالمی فورم‘‘ تھا، لیکن جلد ہی اس کے مقاصد تبدیل ہونے پر اس کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔
 
♦️جوبائیڈن کے دورے کے موقع پر وہ فلسیطنیوں سے بھی مذاکرات کریں گے اور اس سے قبل وہ اسرائیل جائیں گے۔ اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے اور فلسطینیوں سے ملاقات کے بعد جوبائیڈن کا دورہ سعودی عرب کیلئے شیڈولڈ ہے۔ بائیڈن سعودی عرب میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے عراق، اردن، مصر سمیت 9 ممالک کے سربراہوں کو دعوت دی گئی ہے۔ امریکہ دراصل خطے میں اپنا تیزی سے کم ہوتا اثر و رسوخ قائم رکھنے کیلئے کوشاں ہے اور یہ سب جتن بھی اسی مقصد کیلئے کئے جا رہے ہیں۔ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکہ کو خطے سے نکالنے کا پلان تشکیل دیا، جس میں اسے اپنے مسلکی مخالف طالبان کیساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے پڑے اور یوں ایران کو بہت سے مقاصد میں سو فیصد کامیابی ملی۔ اب امریکہ ایک نئے انداز میں اپنے پنجے مشرق وسطیٰ میں گاڑنا چاہتا ہے۔ اس کیلئے وہ سعودی عرب اور یو اے ای کا پلیٹ فارم استعمال کر رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ امریکہ انڈیا کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔
 
♦️جہاں امریکہ براہ راست کوئی معاہدہ نہیں کرسکتا، وہاں وہ انڈیا کو آگے کر دیتا ہے۔ انڈیا اس ملک کیساتھ معاہدے کرتا ہے اور مال خرید کر امریکہ کو فراہم کر دیتا ہے۔ یوں یہ فورم جس کا نام آئی ٹو یو ٹو رکھا گیا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے بھی کام کرے گا۔ ماضی میں اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ نے اسرائیل اور یو اے ای کی دوستی کروائی تھی اور آج اسرائیل یو ای اے میں ایسے موجود ہے، گویا یو اے ای بیت المقدس میں ہے۔ اسرائیل اپنی تمام جاسوسی سرگرمیاں یو اے ای سے چلا رہا ہے۔ عرب ممالک کیساتھ رابطے اور دیگر معاملات بھی یہی سے ڈیل ہو رہے ہیں۔ اب جوبائیڈن اسرائیل سے سیدھا ریاض جائیں گے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے بظاہر تو سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن اندر کھاتے ریاض وہی کچھ کر رہا ہے، جو اسرائیل چاہتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ سعودی عرب اسرائیل کا غیر اعلانیہ اتحادی ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔ اب جوبائیڈن کے دورے کے بعد اس قربت میں مزید اضافے کا امکان ہے، کیونکہ ماضی کی تاریخی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ جو بھی امریکی صدر سعودی عرب آیا، اس نے اسرائیل کے مفاد کی ہی بات کی۔
 
♦️امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو ڈونلڈ ترمپ کے یہودی داماد جیرڈ کیشنر اس وفد میں شامل تھے۔ جیرڈ کیشنر نے محمد بن سلمان سمیت اہم سعودی حکام سے ’’خصوصی‘‘ ملاقاتیں بھی کی تھیں، جن میں اسرائیل کیساتھ معاملات پر ہی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اب سعودی عرب جو نیوم سٹی بنا رہا ہے، اس میں براہ راست اسرائیلیوں کی مداخلت ہے۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اس نئے بلاک کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ خطے میں چین کے مقابلے میں آزادانہ تجارت کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے یو اے ای محفوظ ترین پلیٹ فارم ہے، جہاں انڈیا اور اسرائیل پہلے سے ہی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں، جبکہ اس بلاک کی وجہ سے امریکہ کو بھی نئے ’’اڈے‘‘ بنانے میں آسانی ہو جائے گی۔ یوں امریکہ یو اے ای میں بیٹھ کر جہاں اسرائیلی مفادات کا تحفظ بہتر انداز میں کرسکے گا، وہیں چین اور ایران کو بھی کنٹرول کیا جائے گا جبکہ پاکستان کیخلاف جو امریکہ ناپاک عزائم رکھتا ہے، ان کی تکمیل بھی یہیں سے ہوسکے گی۔
 
♦️ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ وہی امریکہ ہے، جس نے عراق، شام، مصر اور دیگر ممالک میں اپنے پیٹھو حکمرانوں کو عبرت کا نشان بنایا ہے اور مذکورہ ممالک کے تباہی کے دوران یہ باتیں زباں زدِعام تھیں کہ اگلی باری کس کی ہوگی، یہ آگ کہاں تک پہنچے گی۔؟؟ بعض مبصرین نے اُس وقت بھی ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اگلا ٹارگٹ پاکستان ہوگا۔ بعض تجزیہ کاروں نے ایران کی جانب اشارے کئے۔ مگر ایران کے مضبوط دفاعی نظام کے سامنے امریکہ بے بس اور خوفزدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کیساتھ چھیڑ چھاڑ سے امریکہ گریزاں رہتا ہے، لیکن پاکستان کے موجودہ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ اگلا ہدف پاکستان ہے۔ پاکستان اس وقت انتہائی حساس ترین مقام پر آن کھڑا ہے۔ اس موقع پر قوم کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور تیزی سے بلند ہوتی مہنگائی کی شرح اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو عارضی طور پر ’’چارج‘‘ دیا گیا ہے، یہ لوٹ مار کرکے رخصت ہو جائیں گے اور پاکستان (خاکم بدہن) دیوالیہ ہو جائے گا۔ جس کے بعد اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرکے پاکستان کو محتاج بنا لیا جائے گا۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ
 
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
 
تصور حسین شہزاد

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* :