بائیڈن کے افغانستان کو اسکی اپنی رقم کی پیشکش کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہے؟

IQNA

بائیڈن کے افغانستان کو اسکی اپنی رقم کی پیشکش کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہے؟

16:20 - October 03, 2022
خبر کا کوڈ: 3512824
ایکنا تہران-یہ پوری طرح سے واضح نہیں ہے کہ جو بائیڈن کےاس رقم کو واپس کرنے کے پیچھے اصل نیت کیا ہے، جو امریکی ریاست نے افغان عوام کے نام پہ کھولے گئے سوئٹزر لینڈ کے ایک بینک اکاؤنٹ میں روک کر رکھی ہوئی ہے۔

ایکنا- شفقنا نیوز کے مطابق ایک سال قبل جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو امریکہ کے پاس 7 ارب ڈالر افغانی رقم تھی۔ ابتدائی طور پر، بائیڈن انتظامیہ نے اس معاملے سے نمٹنے کے دوران جو اخلاقی محافظ کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی وہ بہت  کمزور تھی اور بمشکل قائل کرنے والی تھی۔ انہوں نے یہاں تک تجویز کیا کہ 9/11 کے متاثرین کے خاندانوں کو بین الاقوامی عدالتوں میں طالبان کے خلاف کیس  لڑنے کے لیے قانونی فیس دی جائے۔
لیکن بائیڈن اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ خاندان اس طرح جواب دیں گے جس طرح جواب ان کی طرف سے سامنے آیاتھا۔ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے کہا کہ وہ  یہ رقم افغان لوگوں کو دے دے۔ وسط مدتی انتخابات کے ابھی چند ہفتے باقی ہیں، اس لیےشاید اس نے سوچا کہ اس طرح کے اقدام  سے امریکہ میں مسلم ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مدد گار ثابت ہوگا۔
اور اسی لیے اس طرح یہ حالیہ اقدام سامنے آیا  ہے کہ آدھی رقم کو سوئس بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے جس میں امریکی اور سوئس حکام دونوں اس کے سرپرست ہوں۔
اس دوران، بہت سے لوگ اس اقدام کے اخلاص پر سوال اٹھائیں گے۔ خود افغانوں کے لیے مذکورہ رقم کو اپنے ہاتھ میں کر لینےکے لیے بائیڈن نے کئی شرائط لاگو کردی ہیں۔ افغانوں کے لیے یہ  ایک قابل ذکر رقم ہے جو ہسپتالوں اور سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے کے لیےاستعمال کی جا سکتی ہے – مختصراً، وہ چاہتا ہے کہ کابل میں مرکزی بینک خود کو طالبان سے دور رکھے اور متعدد عہدیداروں کو تبدیل کیا جائے۔ اگرچہ طالبان کی طاقت اور پہنچ کے پیش نظر یہ درخواست مضحکہ خیز ہے۔اور اسے ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ کس طرح امریکی صدر افغانوں کو خود انکی رقم دینےکے لیے کس طرح بلیک میل کرنا چاہ رہا ہے۔
جوبائیڈن شاید لمبا کھیل کھیل رہے ہوں گے اور امید کر رہے ہوں گے کہ ملک کے بگاڑ میں تیزی آئے گی، اور یہ بالکل اسی طرح ہو گا جیسے 90 کی دہائی کے آخر میں، طالبان ٹوٹنا شروع ہو گئےتھے ، اوران کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ اس منظر نامے میں یہ رقم بلاشبہ بین الاقوامی امدادی اداروں کو افراتفری اور غذائی قلت کو کم کرنے کے لیے امداد کے طور پر دی جا سکتی ہے۔ درحقیقت، ابھی حال ہی میں، بین الاقوامی اور مقامی این جی اوز کے ایک گروپ نے ملک میں صحت کے شعبے کی حالت کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس رقم کی وصولی کی درخواست کی تھی۔
بائیڈن کی طرف سے ایک اور دلیل یہ دی جا سکے گی کہ جیسے جیسے افغانستان کی معیشت برباد ہو رہی ہے،تو ہمیشہ یہ واضح تشویش رہتی ہے کہ طالبان تقسیم ہو جائیں اور دونوں فریق اقتدار کے لیےآپس میں لڑیں۔ اس منظر نامے میں، یہ اچھی طرح سے ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہ ملک میں کام کرنے کی مزید آزادی کے بدلے ایک دھڑے کا ساتھ دیں، جو مکمل طور پر اس بین الاقوامی معاہدے کے خلاف ہے جس پر طالبان نے 2020 میں دوحہ میں دستخط کیے تھے۔
مسئلہ اس حقیقت  کے سامنے آنےسے مزید گھمبیر ہو گیا ہے کہ خود طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک لمحے کے لیے  بھی یہ اشارہ  نہ دیا کہ وہ اپنے ملکی سیاسی ایجنڈے میں مزید مصالحتی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
بدقسمتی سے، ایسا ہونے میں ناکام رہا ہے، اور مغرب نے گروپ کی طرف سے اس طرح کے کسی بھی اقدام سے تمام امیدیں کھو دی ہیں، یہ دیکھتے ہوئے کہ اقتدار سنبھالنے کے چند ہفتوں بعد، یہ بات سامنے آئی کہ اس گروپ نے لڑکیوں کی تعلیم اور دیگر کئی سماجی مسائل پر اپنی سخت گیر پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کر دیا۔
اور اس لیے بائیڈن کا خط تقریباً ایک رشوت ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رقم منتقل کی جا سکتی ہے، لیکن یہ رقم حاصل کرنے کے لیے کئی سخت شرائط کا احترام کرنا پڑے گا۔ایسی شرائط جن کابالواسطہ سیاسی فائدہ بائیڈن اٹھانا چاہتے ہیں۔
اس کا ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اس طرح  طالبان کے لیے یہ ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ایک اور نظریہ یہ ہوگا کہ امریکی ایک گھٹیا کھیل کھیل رہے ہیں تاکہ بالادستی کا ادعاکیا جاسکے اوراس کے زریعے بائیڈن کی خارجہ پالیسی کے اقدامات کو فروغ دیا جائے ، کیونکہ اب تک وہ اس میدان میں کمزور اور غیر موثر نظر آئےہیں۔اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو یہ مانتے ہیں کہ یہ اقدام مکمل طور پر جعلی ہے اور اس میں ایک مذموم لہجہ ہے، حقیقت میں، یہ ایسے دور میں پیش کیا گیا ہے جب ملک ٹوٹ رہا ہے اور بائیڈن خود خوش ہوں گے اگر طالبان کی حکومت گرتی ہے۔ اور یہ کہ افغانستان نے گورننس سمیت ہر چیز میں مغرب سے مدد مانگی۔
مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی داغدار وراثت جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے، اور بائیڈن امریکی فوجیوں کے اچانک انخلا پر اپنا  تاثر کھو بیٹھے ہیں کہ اب انہیں اس رقم کو انسانی ہمدردی کے کام کے بجائے سیاسی فائدہ اٹھانے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
اس غلط اور منافقانہ فیصلے کے نتائج وہی ہوں گے کہ امریکہ کو جس چیز کا خدشہ ہےاور وہ ہے  اس سارے مسئلے یہ کا نچوڑ – "امریکہ کے مخالف گروہ طالبان کے قریب ہو رہے ہیں -اور یہ ایک غیر واضح خارجہ پالیسی کے ناکام ہونے سے  بھی زیادہ ناگزیر ہے۔ افغانستان نہ صرف ” سلطنتوں کاقبرستان”  ہےبلکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی سالمیت اور مشترکہ سوچ کا ایک مقبرہ بھی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha