IQNA

9:59 - March 23, 2017
خبر کا کوڈ: 3502707
بین الاقوامی گروپ: چینی صدر نے پرامن فلسطین کے لئے ناصرف دو ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا بلکہ اسرائیلی وزیراعظم کو صاف صاف یہ بھی کہہ دیا کہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست دیکھنے کے آرزومند ہیں۔

ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ چین کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے ان سے وہ مطالبہ کر دیا کہ جس کا تصور کر کے بھی موصوف پر گھبراہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ چینی صدر نے پرامن فلسطین کے لئے ناصرف دو ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا بلکہ اسرائیلی وزیراعظم کو صاف صاف یہ بھی کہہ دیا کہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست دیکھنے کے آرزومند ہیں۔

ساﺅتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اسرائیل اور فلسطینی ریاست کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر مبنی تعلق کی ضرورت پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ خصوصی ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا”فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے مشرق وسطیٰ پر دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ چین اس بات کی تحسین کرتا ہے کہ اسرائیل دو ریاستی حل کے لئے بات چیت جاری رکھے گا۔ ایک مستحکم مشرق وسطیٰ اسرائیل اور چین دونوں کے حق میں ہے۔"

اسرائیلی وزیراعظم آزاد فلسطین کے ذکر سے ایسے پریشان ہوئے کہ اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کی بجائے اپنی تمام توجہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون پر مرکوز کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا ”ہم اپنی ٹیکنالوجی کو چینی کپیسٹی کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔"

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے دورہ چین کے فوری بعد چین پہنچے ہیں۔ گزشتہ ماہ ان کے سب سے بڑے حمایتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آزاد فلسطینی ریاست کے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین جس متفقہ حل پر پہنچیں گے وہی امریکہ کو بھی قبول ہوگا۔ اسرائیلی وزیراعظم چین سے بھی کسی ایسے ہی بیان کی توقع کر رہے تھے لیکن یہاں معاملہ بالکل ہی الٹ ثابت ہوا۔ چینی مﺅقف سے مایوس ہو کر اب وہ سیاسی معاملات کو چھوڑ کر صرف اقتصادی اور ٹیکنالوجی سے متعلقہ امور پر توجہ دیتے نظر آ رہے ہیں۔


نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: