IQNA

10:51 - May 18, 2018
خبر کا کوڈ: 3504596
بین الاقوامی گروپ: کالعدم تکفیری لشکر جھنگوی بلوچستان کے سربراہ سلمان بادینی اور 2 خودکش بمباروں کی ہلاکت کے ردعمل میں حملہ کیا گیا

ایکنا نیوز- پاکستانی میڈیا کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی کوئٹہ میں ایف سی مددگار سینٹر پر حملے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔

 

بیان میں کہا گیا کہ 5 خودکش بمباروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاری کے ہمراہ مددگار سینٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم متحرک ایف سی جوانوں نے دہشت گردوں پر فائرنگ کرکے انہیں سینٹر میں داخل ہونے سے روک دیا، جبکہ جوابی کارروائی میں پانچوں حملہ آور مارے گئے۔

 

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے تمام خودکش بمبار بظاہر افغانی تھے، جبکہ دہشت گردوں کا ناکام حملہ ان کے اہم دہشت گردوں کے گزشتہ روز کلی الماس میں آپریشن کے دوران مارے جانے کا ردعمل تھا۔

 

بیان کے مطابق دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے، تاہم اب صورتحال قابو میں ہے اور سیکیورٹی فورسز علاقے کو کلیئر کر رہی ہیں۔

 

یاد رہے کہ آج ملک میں ہونے والا دوسرا دہشت گرد حملہ ہے جہاں اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا میں نوشہرہ میں ایف سی کے گاڑی پر کیے گئے خودکش حملے میں 6 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

 

گزشتہ روز کوئٹہ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کرنل سہیل عابد بھی شہید ہوئے۔

 

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران کالعدم لشکر جھنگوی بلوچستان کا سربراہ سلمان بادینی اور 2 خودکش بمبار ہلاک ہوئے۔

 

ہلاک خودکش بمباروں کا تعلق افغانستان سے تھا، جبکہ کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار بھی کیا گیا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد 100 سے زائد پولیس اہلکاروں اور ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث تھے۔

 

 تجزیہ نگاروں کے مطابق  ملک کی دیر پا قومی سالمیت،ترقی اور قومی اداروں کے وقار کی بحالی میں اس طرح کے آپریشن موثر کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم جوابی رد عمل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اینٹلی جنس بنیادوں پر فوری طور پر دہشت گردی کے مراکز اور سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جایے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: