IQNA

9:15 - October 28, 2018
خبر کا کوڈ: 3505278
بین الاقوامی گروپ- ہتھیاروں کی فروخت کے مخالف ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر عبادت خانے کے اندر مسلح گارڑ ہوتا توواقعہ یوں نہ ہوتا !

ایکنا نیوز- امریکن میڈیا کے مطابق 'ٹری آف لائف' سناگاگ میں اس وقت ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی جب عبادت جاری تھی۔ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

 

مشتبہ حملہ آور کی شناخت 46 سالہ شخص رابرٹ بوورز کے نام سے ہوئی ہے، جو زخمی حالت میں ہیں۔

امریکا: یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ11 افراد ہلاک

پولیس کے مطابق چار مزید شدید زخمیوں کا بھی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے جنمیں دو اعلی پولیس افیسر شامل ہیں۔

 

وفاقی تفتیش کار اس واقعے کی 'نفرت انگیز جرم' کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔

 

ایک غیرسرکاری یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے خیال میں یہ امریکہ کی تاریخ میں یہودی برادری پر ہونے والا سب سے بڑا مہلک حملہ ہے۔‘

 

قابل ذکر ہے کہ پٹسبرگ کے علاقے سکوئرل ہل میں واقع یہودی عبادت گاہ میں عبادت گزار سبات کے لیے جمع تھے۔

 

سکوئرل ہل وہ رہائشی علاقہ ہے جہاں ریاست پینسلوینیا میں سب سے زیادہ یہودی آبادی ہے اور سنیچر کے روز اس عبادت گاہ میں خاصی بھیڑ ہوتی ہے۔

 

ہتھیاروں کی فروخت کے حامی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’بہت سے لوگ‘ ایک ’اجتماعی قتل کے ناگوار واقعے‘ میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔  واقعہ افسوسناک ہے ، اگر عبادت گاہ کے اندر مسلح گارڑز موجود ہوتے تو واقعہ کی نوعیت کچھ اور ہوتی !

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: