IQNA

12:04 - January 13, 2020
خبر کا کوڈ: 3507095
بین الاقوامی گروپ- امریکا نے فلوریڈا میں ایک سعودی افسر کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد انتہا پسندوں سے روابط اور چائلڈ پورنو گرافی کے الزام میں ایک درجن سعودی فوجی طالبعلموں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق گزشتہ برس دسمبر میں امریکا کے سعودی فوجی تربیتی پروگرام میں شامل محمد الشامرانی نے نیول ایئر اسٹیشن پینساکولا میں فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 3 نیوی اہلکار ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ بعد میں حملہ آور بھی پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا تھا۔

اس بارے میں سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک درجن سے زائد زیر تربیت اہلکار محمد الشامرانی کی مدد کرنے میں ملوث نہیں لیکن کچھ افراد کے انتہا پسند تنظیموں سے روابط تھے جبکہ کچھ افراد چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث پائے گئے۔

مذکورہ تحقیقات فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے کیں جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حملے سے قبل کسی نے حملہ آور کے پریشان کن رویے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

دسمبر کے وسط میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ امریکا میں اس وقت زیرِ تربیت سعودی فوجی اہلکاروں کے پس منظر کا جائزہ لیا گیا اور ’فوری خطرے کی کوئی بات سامنے نہیں آئی‘۔

خیال رہے کہ وزارت دفاع کے حکام نے حملے کے بعد سعوی عرب کے فوجی طالبعلموں کے لیے عملی تربیت روک دی تھی تاہم کلاس روم میں پڑھانے کا عمل جاری تھا۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ حملہ کرنے والا 21 سالہ نوجوان سعودی رائل ایئرفورس میں لیفٹیننٹ تھا اور اس کے پاس قانونی طریقے سے خریدی گئی گلاک 9 ایم ایم ہینڈ گن موجود تھی۔

اس نے فائرنگ کرنے سے قبل ٹوئٹر پر اپنا منشور بھی شائع کیا تھا جس میں امریکا کو ’شیطان کی قوم‘ کہہ کر مذمت بھی کی تھی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ’ایف بی آئی نے محمد الشامرانی کے 2 آئی فونز تک رسائی کے لیے ایپل سے مدد مانگی ہے' لیکن کمپنی حکومت کی جانب سے انکرپشن توڑنے کی درخواست پر مزاحمت کررہی ہے۔

ایپل کا کہنا تھا کہ وہ کلاؤڈ اسٹوریج میں موجود متعلقہ ڈیٹا فراہم کر کے پہلے ہی ادارے کی مدد کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں غیر ملکی افواج کے 5 ہزار اہلکار زیر تربیت ہیں جس کے تمام شعبوں میں تقریباً 8 سو 50 سعودی اہلکار بھی شامل ہیں۔

نام:
ایمیل:
* رایے: