IQNA

7:35 - February 07, 2020
خبر کا کوڈ: 3507204
بین الاقوامی گروپ- «عصائب الحق» تنظیم کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی نے ایک خط میں فاش کیا تھا کہ ایک اعلی شخصیت کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے اہم سربراہ ۲۰۱۲ سے سی آئی اے کے ساتھ مل چکا ہے اور مظاہرین پرفائرنگ انکے حکم سے انجام پایا ہے۔

ایکنا نیوز- العالم نیوز چینل کے مطابق  «عصائب الحق» کے سیکریٹری جنرل

نے پروگرام «لقاء خاص» سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ  سردار قاسم سلیمانی، نے انکو ایک خط لکھا تھا جسمیں کہا گیا ہے کہ  «تین اعلی ترین شخصیات» میں سے ایک شخص اور خفیہ ایجنسی کے اعلی عہدہ دار «سی آئی اے» سے مل چکا ہے۔

 

خزعلی نے تاکید کی کہ بعض  آمریکی ـ اسرائیلی پروگرام مقامی افراد کے تعاون سے انجام پاتا ہے کہا کہ ایک اعلی ترین عراقی شخصیت جس کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں انکے حکم سے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی۔

 

عصائب رہنما کا کہنا تھا: مستند زرایع سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ افراد  سال ۲۰۱۲ سے سی آئی اے کے ساتھ کام کررہے ہیں

 

امریکہ مقتدی صدر کو ٹارگٹ کرنا چاہتا تھا

 

انکا کہنا تھا: امریکہ کا پروگرام تھا کہ  مقتدی صدر کو ٹارگٹ کرکے اس کا الزام عصائب اهل الحق پر ڈال دے تاکہ اندورونی خانہ جنگی شروع ہوجائے جسکی اطلاع ایران اور صدر کو دی گیی اور الحمدواللہ یہ منصوبہ ناکام ہوا۔

 

 

خزعلی نے کہا کہ مذکورہ انکشافات خود حاجی قاسم سلیمانی نے کیا تھا اور وہ مطمین ترین شخص تھے۔ عراق میں امریکہ کا پروگرام یہ ہے کہ  حشد الشعبی کے افراد کو ٹارگٹ کرکے داخلی جنگ شروع کرے اور مظاہروں کو ہوا دیکر وزیراعظم کو استعفی پر راضی کرے۔

 

 

عصائب نے علاوی کی حمایت کردی

 

خزعلی نے کہا کہ «محمد توفیق علاوی» کی حمایت اس بات سے مشروط ہے کہ  حشدالشعبی کے حوالے سے کیا ہے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ حشدالشعبی کو ختم کرے حالانکہ عوام اور مرجعیت دونوں حشد الشعبی کی بقاء کی حامی ہے

سیکورٹی مسایل کے حوالے سے پروگرام، چین کے ساتھ معاہدوں کی حالت جسکو امریکہ ختم کرنا چاہتا ہے اور امریکہ فورسز کے انخلا ایسے مسایل ہیں جنکو درست حل کرنے کی صورت میں ہم علاوی کی حمایت کرسکتے ہیں ورنہ ہم مخالفین میں شمار ہوسکتے ہیں۔/

3876990

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: