IQNA

8:05 - May 26, 2021
خبر کا کوڈ: 3509397
تہران(ایکنا) قدس کے دفاع پر اقدام قابل تعریف ہے اور سینچری ڈیل اپنی موت آپ مرگیا- جنوبی لبنان کی آزادی کی سالگرہ پر خطاب

حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے عید مزاحمت اور آزادی کی مناسب پر 25 مئی کی رات اپنے خطاب میں کہا کہ ماہ مبارک رمضان کے بعد گزشتہ دنوں ان کے حاضر نہ ہونے کی وجہ ان کی بیماری تھی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے حالات پر شروع سے ہی لبنانی بھائیوں اور باہر رہنے والے ساتھیوں کے ذریعے رابطے میں رہا اور اب ہم دو عظیم کامیابیوں کا یعنی 25 مئی 2000 لبنان میں اور 21 مئی 2021 غزہ میں جشن منائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں اور ان کی فوج شاخوں کے کمانڈروں نے حالیہ جھڑپوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

سید حسن نصر اللہ نے جنرل قاسم سلیمانی سمیت لبنان، فلسطین اور ان عرب ممالک کے شہداء کو یاد کیا جنہوں نے جنوبی لبنان کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سن 2000 میں لبنانی قوم اور مزاحمت نے جو کامیابی حاصل کی وہ قومی تحریکوں اور پارٹیوں کی قربانیوں کا نتیجہ تھی۔

 

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سن 2000 کی فتح کا نتیجہ اسٹراٹیجک تھا اور یہی سبب ہے کہ دشمنوں کے رہنماؤں نے اس اہم اور اسٹراٹیجک شکست کے خطروں کی بابت خبردار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت یہ گمان کر رہی تھی کہ بیت مقدس کو یہودی رنگ دینے کا مسئلہ، بیانات سے زیادہ آگے نہ بڑھے اور یہاں پر دشمنوں سے حساب کتاب کی بڑی غلطی ہو گئی اور اس نے گمان بھی نہيں کیا کہ غزہ ایسا تاریخی فیصلہ کرے گا اور غزہ نے بیت المقدس میں غاصبوں کے اقدامات کے جواب میں اپنے فیصلے سے دوست اور دشمن سب کو ہی حیران کر دیا۔

 

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ غزہ کی حالیہ جنگ اسرائیلی دشمن کے ساتھ جنگ کی تاریخ میں تاریخی قدم تھی اور سیف القدس نامی آپریشن کی تاریخ سے سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ بیت المقدس اور اس کے باشندوں کے دفاع کے لئے اٹھ گھڑا ہوا نہ غزہ کی حفاظت کے لئے۔

انکا کہنا تھا کہ القدس پر حملہ علاقائی جنگ کا باعث بنے گا۔  ہمارے مقدسات کو خطرہ بناتے ہوئے خاموشی اختیار نہیں کرسکتے ہیں۔

حزب اللہ رہنما نے خبردار کیا کہ کوئی بھی سنگین خطرہ صیہونی ہستی کے خلاف جنگ کا باعث بنے گا جو اس کے خاتمے کا سبب بنے گا اور اسے وجود سے دور کردے گا۔

 

انکا کہنا تھا کہ فلسطین میں فتح اپنے ساتھ بہت ساری فتوحات لایا اور  فلسطین کے عوام ایک شناخت کے تحت متحد ہوگئے ، مزاحمت پر یقین بحال ہوا ، معمول کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہوگئے ، فلسطینی کاز کو زندہ کیا گیا .

حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا اصلی ، بے رحم ، بچوں کے قتل کا چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔

 

انکا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ ان کا کئی میڈیا آؤٹ لیٹس پر کنٹرول ہو ، لیکن یہ بات واضح تھی کہ وہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ حالیہ سیف القدس مزاحمتی آپریشن  نے بھی فلسطین کی طرف دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے کمپاس کو ری ڈائریکٹ کیا۔

حسن نصراللہ نے مجاہدین کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صہیونی فضائیہ کے حملوں ، جاسوس ڈرونز ، اور غزہ کی سرحد سے زمینی حملوں کے باوجود ان میں 11 دن کے بغیر رکے کے میزائلوں کو لگاتار نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود تھی۔

یہاں تک کہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حملے کے وقت نے اس کا نفسیاتی اثر ڈالا ہے۔

انہوں نے مختلف حدود اور بڑی تعداد میں میزائل داغے اور دشمن اپنی جانی نقصان کو چھپا نہ سکے۔

انکا کہنا تھا کہ مزاحمتی محور کے عوام کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ  صہیونی وجود سلامتی و آشتی کی حالت کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

انکا کہنا تھا کہ  آباد کار اپنی حفاظت کو  کسی بھی خطرے کے باوجود اس ادارے کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں ، جبکہ فلسطینی اپنی سرزمین ترک کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

 

 

حسن نصراللہ نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں صہیونی وجود کی محفوظ اور محفوظ صہیونی شخصیت کی غلط تصویر کو دنیا کے سامنے لایا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں کسی بھی صہیونی عہدیدار کی طرف سے ان جنگ سے ان کو حاصل  فوائد حاصل ہونے کے بارے میں مجھے کوئی بیانات دکھائیں جو اس ادارے کو حاصل ہوئے ہو کوئی بھی نہیں ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہر زمانے سے بڑھکر مقاومت کی غاصب رژیم پر فتح نزدیک تر ہوئی ہے اور اس حوالے سے ہم تمام ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مقاومت کی مدد کی بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے شکرگذار ہیں۔/

3973719

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: