IQNA

10:21 - May 30, 2021
خبر کا کوڈ: 3509431
امریکی صدر اور ان کی کابینہ کو اپریل میں معلوم ہوگیا تھا کہ اسرائیل غلط مہم جوئی کرنے جا رہا ہے، مگر وہ خاموش رہے.
جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار و محقق امجد علی کا ”اسلام ٹائمز“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل کے غزہ پر حملہ مکمل misadventure تھا، یہ اسرائیلی حکومت کی مکمل ناکامی ہے کہ وہ جنگ چھیڑنے سے پہلے اس سے متعلق درست اندازے نہیں لگا سکی کہ رسپانس کیا آئے گا، روسی انٹیلیجنس نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر اور ان کی کابینہ کو اپریل میں معلوم ہوگیا تھا کہ اسرائیل غلط مہم جوئی کرنے جا رہا ہے، مگر وہ خاموش رہے، محاصرے میں گھرے فلسطینیوں کا اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینا بہت بڑا سرپرائز ہے، چاروں طرف سے محصور غزہ میں اتنے راکٹ کہاں سے آگئے، یہ اسرائیل کیلئے بہت بڑا سرپرائز ہے، جب اسرائیل اپنی عسکری اسٹراٹیجی میں ناکام ہوا تو سیز فائر کرنے پر مجبور ہوا، حماس و دیگر فلسطینی تنظیموں کی حکمت عملی اور صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے، حماس نے تل ابیب سمیت کئی علاقوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر اسرائیل پر واضح کر دیا کہ تمہارا چپہ چپہ ہمارے ہتھیاروں کے نشانے پر ہے، فلسطینیوں نے میزائل و دیگر ہتھیاروں کو جو اپ گریڈ کیا ہے، اس کا اس گیارہ روزہ جنگ میں کامیاب مظاہرہ کیا ہے، یہ اسرائیل کیلئے چونکا دینے والا سرپرائز تھا۔
اسرائیل کے غزہ پر حملہ مکمل misadventure تھا
 
امجد علی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ناکام مہم جوئی کے بعد پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ یہودی اسرائیل کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل آنے والے یہودیوں کو سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ وہ سرزمین ہے، جہاں ہم لوگ مارے جائیں گے، اسرائیلوں نے نیتن یاہو کے گھر کے باہر احتجاج کیا کہ ہم پُرامن طور پر رہ رہے تھے، تم نے کیوں ہمیں خواہ مخواہ کی جنگ میں دھکیل دیا، اسرائیل میں رہنے والے امن کے خواہش مند یہودیوں کو واضح پیغام مل چکا ہے کہ ابھی صرف حماس کی جانب سے مزاحمت کی گئی، اس جنگ میں حماس کو صرف سپورٹ آئی ہے حزب اللہ کی طرف سے، ابھی حزب اللہ جنگ کا براہ راست حصہ نہیں بنی، جس سے اسرائیل ماضی میں شکست کھا چکا ہے، ایران، پاکستان، ترکی تو ابھی براہ راست جنگ میں نہیں آئے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی چار الیکشن کے بعد بھی اپنا وزیراعظم نہیں بنا سکے، موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو، ان کی بیوی اور بیٹے پر کرپشن اور فراڈ کے کیسز چل رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ نیتن یاہو نے دنیا کی توجہ اپنے بحران سے ہٹا کر فلسطین پر لگانے کی کوشش کی، تاکہ انہیں اندرونی اور عالمی حمایت بھی مل جائے، لیکن اب تو تمام چیزیں کھل کر سامنے آچکی ہیں، اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ وہ علاقائی طاقت ہیں، اب عالمی طاقت بننا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل نہ علاقائی قوت ہے، عالمی طاقت بننے کا تو سوچنا بھی نہیں چاہیئے، اسرائیلی سکیورٹی امریکا اور مغرب کی مرہون منت ہے، ہیومن ریسورس اسی لاکھ تک محدود ہے اور بات کرتے ہیں علاقائی و عالمی طاقت بننے کی، اسرائیل بڑی جنگ کی بات کرتا ہے، لیکن اس صورت میں اسرائیل اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گا۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: