IQNA

18:33 - June 15, 2021
خبر کا کوڈ: 3509564
تہران (ایکنا) مذکورہ نوٹیفکیشن میں غیر ملکیوں کو کسی طرح کی نرمی کی سہولت نہیں دی گئی ہے اور یہ صرف ان غیر ملکیوں پر ہی لاگو ہوتا ہے جو ملک میں قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں۔

نیوز اٹھارہ کے مطابق مرکزی حکومت نے شہریت ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت اپنا اختیار استعمال کیا اور ضلع کو رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے ذریعہ شہریت دینے کے لئے اپنے اختیارات تفویض کردیئے۔

مرکز نے پیر کو سپریم کورٹ (Supreme Court) کو بتایا کہ اس نوٹیفکیشن میں گجرات ، راجستھان ، چھتیس گڑھ ، ہریانہ اور پنجاب کے 13 اضلاع میں مقیم غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت (Indian citizenship) کے لئے درخواست دینے کی دعوت دی گئی ہے جس کا تعلق شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 (Citizenship (Amendment) Act, 2019 (CAA)) سے نہیں ہے۔


وزارت داخلہ امور (Ministry of Home Affairs) نے کہا کہ اسی طرح کے وفد کو مرکزی حکومت نے 2004 ، 2005 ، 2006 ، 2016 اور 2018 میں بھی اجازت دی ہے اور مختلف غیر ملکی شہریوں کے مابین اہلیت کے معیار کے سلسلے میں بھی نرمی کی گئی ہے۔ شہریت ایکٹ 1955 میں درج کیا گیا تھا اور ایم ایچ اے نے حلف نامے میں کہا کہ 28 مئی 2021 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کا تعلق سی اے اے سے نہیں ہے جو سیکشن بی 6 کے تحت دفعہ میں داخل کیا گیا ہے۔ ایم ایچ اے نے حلف نامے میں کہا اور مزید کہا کہ وہ محض مرکزی حکومت کا اختیار سونپنا چاہتا ہے۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اضلاع کے کلکٹروں اور مزید سیٹوں کے ہوم سیکرٹریوں کو شہریت دینے کے لئےاس قانون کی توسیع کے بارے میں ہے۔ مذکورہ نوٹیفکیشن میں غیر ملکیوں کو کسی طرح کی نرمی کی سہولت نہیں دی گئی ہے اور یہ صرف ان غیر ملکیوں پر ہی لاگو ہوتا ہے جو ملک میں قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں کیونکہ مرکزی حکومت نے شہریت ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت اپنا اختیار استعمال کیا اور ضلع کو رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے ذریعہ شہریت دینے کے لئے اپنے اختیارات تفویض کردیئے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: