IQNA

8:25 - July 23, 2021
خبر کا کوڈ: 3509859
لوگ حج کو بھولتے جارہے ہیں جبکہ سعودی میں حج کے سوا دیگر رونقیں بحال ہورہی ہیں۔

وہ اللہ کے عہد سے پھر جانے والے آل سعود کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں اسے اب امت کی کسی  متفقہ  باڈی کے سپرد ہونا چاہئیے۔۔!

 

‏ ‏حرم خالی، حج تقریباً معطل، مقامات مقدسہ جانے پر 10 ہزار ریال جرمانہ اور عمرہ بھی بند۔ لیکن سینما ہالز فل، فلم فیسٹیول شروع۔ 7 جولائی تک جاری رہے گا۔ کورونا کے دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔

میٹا سینما (META) کے مطابق 40 ہفتوں میں 73 ملین ڈالر کے سینما ٹکٹس فروخت ہونے کا ریکارڈ قائم ہوا

2020 میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی۔ لیکن سرزمینِ وحی میں اسے عروج حاصل رہا۔

گزشتہ ماہ جدہ میں پندرہ دن کے وقفے سے دو بڑے میوزیکل کنسرٹ ہوئے جس میں سعودی مرد و خواتین بغیر کسی قسم کے ایس او پیز  کے ناچ گانے کے مخلوط پروگرام میں شریک رہے۔۔۔۔

 ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اکٹھے ہوکر فٹ بال کا میچ دیکھ سکتے ہیں حرم شریف میں نہیں آ سکتے ۔ ‏یہ بہت بڑی سازش ہے۔

سعودی حکومت بتائے کون سی ویکسین لگانی ہے تمام مسلمان لگانے کو تیار ہیں۔تمام مسلمان ممالک مل کر  حج و عمرہ کھلوائیں۔ خانۂ کعبہ و مدینہ منورہ آل سعود کی جاگیر نہیں۔۔۔۔

موذی کرونا سے پہلے لوگ سال بھر حج اور عمرہ کی باتوں اور کوشش میں مصروف رہتے  تھے ، ایام حج میں لوگوں کا شوق و ذوق مزید بڑھ جاتا تھا۔

کرونا کی اڑ  میں پرنس "ایم بی ایس" کا غلط اور غلیظ فیصلہ ۔۔۔۔۔۔ عالم اسلام رفتہ رفتہ قبول کرتا جارہا ہے ، سعودی کے اس "کافرانہ اور ظالمانہ"  فیصلے کیخلاف دنیا کے کسی بھی حصے سے احتجاج بلند نہیں ہورہا ہے ،   سعودی کے سینما ھال کھل گئے ہیں جہاں کوئی "ایس او پیز"  لاگو نہیں  ، کیسینوز میں وہی چہل پہل ہیں ، ہوٹلز اور شاپنگ مالز میں وہی رونقیں ہوتی ہیں مگر حرمین بند پڑے ہیں ۔

 تعجب کی بات ہے ، یورپ بھر میں  "یوروکپ فٹ بال ٹورنمنٹ" کے دوران  وہی پرانی جوش وخروش دیکھنے میں آتی ہے لیکن حرمین پر ابھی تک کویڈ 19 کی نحوست کا سایہ ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کرونا نہیں ہے یا ویکسین ضروری نہیں ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔

جب یورپ و امریکہ میں کھیل کے میدانوں میں عوام کا ھجوم دیکھتے ہیں ، دوسری طرف سعودی اور امارات میں کاروباری ، تفریحی اور "انٹرٹینمنٹ" والی مقامات پر وہی پرانی سرگرمیاں ، وہی رونقیں ، وہی نظارے اور وہی چہل پہل نظر اتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ،

تو ۔۔۔۔۔  "حرمین" کی بے بسی اور بیکسی پر رونا آتا ہے ۔۔۔۔۔۔ !!

 

 روایت کا مفہوم ہے کہ

" خانہ کعبہ بنانے کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی ائی کہ اب اعلان کرو تو اپ نے تعجب سے فرمایا اس صحرا سے میری  اواز دنیا تک کیسے پہنچے گی تو جبرائیل نے  فرمایا ، یہ اپکا کام نہیں ہے آپ صرف اعلان کرے اواز پہنچانا "ہمارا"  کام ہے"-

 

سعودی حکام تک (بظاہر) ہمارا اواز نہیں پہنچ سکتا مگر اپ صرف وائرل کیجئے باقی کام "انکا" ہے ہوسکتا ہے "وہ"  اپنے اور اپنے محبوب (صل اللہ علیہ والہ وسلم) کے گھر کی رونقیں بحال کرنے کیلئے آپ کے "شیئر کرنے" کو بہانہ بنالے۔

زبیر منصوری

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: