IQNA

7:47 - September 13, 2021
خبر کا کوڈ: 3510222
تہران(ایکنا) برطانوی پولیس کے مطابق مانچسٹر کی مسجد میں آگ لگنے کی وجوہات معلوم کی جارہی ہیں۔

ایکنا نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ کیا مسجد میں آگ لگنے کا واقعہ اسلام کے نفرت انگیز جرایم کا سلسلہ تو نہیں اس پہلو سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

 

مانچسٹر کی مسجد ڈیڈز بری میں آدھی رات کو آگ لگنے پر پولیس کو رپورٹ کی گیی، اس آتش زدگی کے واقعے میں مسجد کے دروازے کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

 

فیس بک پر ایک پیغام میں کے مطابق مسجد میں آگ لگنے کے واقعے کے وقت دو آدمی مسجد کے پاس سے گذر رہے تھے جنہوں نے اپنے کپڑوں سے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی، مسجد انتظامیہ نے انکا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

 

مسجد کے ڈائریکٹر ٹریسی پوک کا کہنا تھا کہ انکا شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں، نفرت کو معاشرے میں پذیرائی نہیں ملے گی اور ہم نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

تفتیشی آفیسر شعیب چودھری کا کہنا تھا کہ واقعہ افسوسناک ہے اورہماری پوری کوشش ہوگی کہ اس واقعے میں اگر کوئی ملوث ہے تو اسے گرفتار کرلیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے واقعے کی تفتیش کا عمل جاری ہے اور عوام بھی اطلاع رسانی میں مدد کرسکتے ہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ نفرت انگیزی کو معاشرے میں عام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مانچسٹر تمام اقوام کی سرزمین ہے اور نفرت پھیلانے والوں سے نمٹا جائے گا۔

 

گورٹون کے نمایندے افضل خان نے ٹوئٹ کیا ہے: مسجد میں آگ لگنے کی خبر سن کر دھچکہ لگا، اپنے بھائیوں اور بہنوں سے یکجہتی کا اظھار کرتا ہوں، اسلامو فوبیا میں اضافہ ہورہا ہے، عوام وحدت کی حفاظت کریں اور ان واقعات کو Tell Mama فاونڈیشن میں رپورٹ کریں۔/

3996959

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: