IQNA

17:27 - September 13, 2021
خبر کا کوڈ: 3510224
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا۔

ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کے آغاز کے موقع پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 56 (3) کے تحت پارلیمانی سال کے آغاز کے لیے صدارتی خطاب لازمی ہے۔

صدر مملکت کے خطاب کے دوران ایوان میں شور شرابا دیکھنے میں آیا اور اپوزیشن اراکین احتجاج کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔

پارلیمان میں صدارتی خطاب کے موقع پر وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے، ان کے علاوہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی شریک ہوئے۔

صدر عارف علوی نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر اراکین پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جمہوری اقدار اور "رواداری کی روایت" پروان چڑھے۔

ہمسایہ ملک افغانستان میں گزشتہ ماہ کے وسط میں آنے والی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ طالبان رہنماؤں کے بیانات حوصلہ افزا ہیں، افغانستان کی تعمیر و ترقی میں دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا۔

یاد رہے کہ آئینی طور پر لازم صدارتی خطاب کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے درمیان ملاقات میں کیا گیا تھا۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: