IQNA

18:55 - September 21, 2021
خبر کا کوڈ: 3510274
طالبان حکومت کے نائب وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران، افغانستان کے داخلی اُمور میں مداخلت نہیں کر رہے ہیں اور ہم ملک کی بہتری کے لیے ان ممالک کے مشوروں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق کابل میں عبوری کابینہ میں توسیع کے اعلان کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کچھ دیگر ممالک کے افغانستان کے ساتھ سیاسی رابطے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترجمان طالبان حکومت نے امن، استحکام اور جامع افغان حکومت کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ گروپ نے افغانستان کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے مثبت بیانات کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر نہیں دیکھا۔

کابل میں عبوری کابینہ میں توسیع کے اعلان کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کچھ دیگر ممالک کے افغانستان کے ساتھ سیاسی رابطے ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز کی جانے والی پریس کانفرنس میں کابینہ میں نئی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں نسلی اقلیتوں مثلاً ہزارہ کے اراکین بھی شامل ہیں اور ہوسکتا ہے بعد میں خواتین کو بھی شامل کرلیا جائے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی شرط پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ ہماری حکومت کو تسلیم کرے اور دیگر ممالک بشمول یورپی، ایشیائی اور مسلمان ممالک ہم سے سفارتی تعلقات قائم کریں'۔

طالبان نے اپنی موجودہ کابینہ کو عبوری حکومت قرار دیا ہے جس کے مطلب یہ ہے کہ اس میں تبدیلی اب بھی ممکن ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا کبھی انتخابات کروائے جائیں گے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترجمان طالبان حکومت نے امن، استحکام اور جامع افغان حکومت کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ گروپ نے افغانستان کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے مثبت بیانات کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر نہیں دیکھا۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: