IQNA

وحدت کانفرنس کا چوتھا دن؛
8:51 - October 23, 2021
خبر کا کوڈ: 3510490
تہران(ایکنا) پینتیسویں بین الاقوامی وحدت کانفرنس میں باروہویں ویبنار میں مقررین نے اقتصادی الاینس اور مشترکہ کرنسی پر تاکید کی۔

پینتیسویں بین الاقوامی وحدت کانفرنس سے ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ویبنار میں مختلف ایرانی اور غیرملکی دانشوروں اور ماہرین نے خطاب کیا۔

 

انڈیا کے مدرسہ دارلبنا ت کے سربراہ مولانا محمدرضا الازهری القادری نے ویبنار سے خطاب میں کہا: خداوند سبحان قرآن کریم میں فرماتا ہے: «واعتصموا بحبل الله جميعا ولاتفرقوا» اور اس حوالے سے «ابن مسعود» اور دیگر مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وحدت کو حفظ کرنا اور فرقہ واریت سے دوری ہے۔

 

وحدت، تمام مسلمانوں کے مفاد میں

انکا کہنا تھا: اس آیت سے مراد ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کو متحد ہونا چاہیے کیونکہ اس کے ثمرات بہت زیادہ ہیں اور سب کے مفاد میں ہے۔

 

الازهری کا کہنا تھا: مسلمانوں کا مفاد سب کی اولین ترجیح ہونا چاہیے اور اس میں تمام امور کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

 

انکا کہنا تھا: اس حوالے سے رسول خدا (ص) کی حدیثیں کافی زیادہ ہیں جسمیں وحدت کی تاکید کی گیی ہے۔

 

ویبنار سے بلوچستان کے معروف اہل سنت عالم دین مولانا سید حبیب الله شاه چشتی نے رسول گرامی اسلام کو محور وحدت قرار دیتے ہوئے کہا: پیغمبر (ص) نے تمام زمینی خداوں کو کو پاش پاش کیا اور بڑے بادشاوں کو شکست دی اور اسی کے نتیجے میں آج اسلامی دنیا میں ایک خدا کی عبادت کی جاتی ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ رسول اسلام (ص) کے بعد مختلف فرقے وجود میں آئے اور سب کی دعوت ایک خدا کی عبادت ہے تاہم اختلافات فرعے اور تفسیر میں ہے۔

 

شاه چشتی کا کہنا تھا کہ اگر میں اختلافات نہ ہوتے تو دشمن کبھی ہم پر تسلط حاصل نہ کرتے۔

 

انکا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اسلامی دنیا بشمول پاکستان، ایران، قزاقستان، ازبکستان اور افغانستان ایک اقتصادی بلاک تشکیل پائے جس میں تمام اسلامی ممالک شامل ہوں۔

 

شاه چشتی کا کہنا تھا کہ اگر ایک واحد اسلامی کرنسی تشکیل پائے تو بہت سے مسایل حل ہوسکتے ہیں۔

 

پاکستانی عالم دین اور دانشور پیر حسیب الرحمان کا کہنا تھا: آج کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ کچھ لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دیں اور اس کو شاہکار سمجھتے ہیں حالانکہ مسلمان کو کافر قرار دینے کی بجائے کافر کو مسلمان بنائے تو شاہکار ہے۔

 

پاکستانی عالم دین کا کہنا تھا کہ آپس میں اختلافات نے ہمیں بیرونی دشمن سے بے نیاز کردیا ہے حالانکہ اگر

اہم اسلام اور امت حضرت رسول (ص) کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ان میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔

 

تکفیری گروپوں سے ملنے پر پشیمانی

وحدت اسلامی اسلامی کانفرنس سے خطاب میں کینیا یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام والمسلمین شیخ سلیم مویگا نگا نگا نے افریقہ و عرب ممالک میں اسلام کے پھیلاو کے حوالے سے کہا: افریقہ میں کافی مذاہب موجود تھے لیکن اس پر جھگڑا نہیں ہوتا کہ کونسا عقیدہ بالاتر ہے مگر کچھ لوگوں کے ذاتی مفادات کی وجہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔

 

کینیا یونیورسٹی استاد کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے شدت پسندی تبلیغات کی بناء پر تکفیری گروپوں کو رخ کیا اور ان میں شامل ہوا مگر جب نزدیک سے انکے خیالات اور کردار کو دیکھا تو پشیمان ہوکر واپس عیسائی ہوا۔

 

حجت‌الاسلام والمسلمین شیخ سلیم مویگا نگا نگا کا کہنا تھا کہ اسلام کے حقیقی پیغام پر جمع ہوکر امام وقت کی رضا حاصل کرسکتے ہیں۔

 

قابل ذکر ہے کہ پینتیسویں وحدت اسلامی کانفرنس تقریب مذاہب فورم کے تعاون سے «اتحاد اسلامی، امن اور اسلامی دنیا میں تفرقے سے دوری» تہران میں منعقد کی گیی ہے۔/

 

4007122

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: