IQNA

10:46 - December 25, 2021
خبر کا کوڈ: 3510938
اتہران(ایکنا) نڈین پولیس کے مطابق مسلمانوں پر تشدد کرنے والوں پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

 

ٹی آر ٹی نیوز کے مطابق ہندو شدت پسندوں نے شمالی ہندوستان میں ایک اجتماع میں مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی ہیں۔

 

انڈیا کی سول سوسائٹی نے ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

انڈیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس اجتماع میں ایسی دھمکی دینے والوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی گیی ہیں۔

 

فرنچ نیوز کے مطابق ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جہاں ایک ہندو اجتماع میں مقررین کھلم کھلا مسلمانوں کے قتل کی بات کررہے ہیں اور واضح کہا جاتا ہے کہ ہندوں کی حفاظت کے لیے دو ملین مسلمانوں کو قتل کرنا چاہیے۔

 

اس اجتماع میں نریندرمودی پارٹی کا رکن بھی موجود ہے، کہا جاتا ہے کہ مودی حکومت کے بعد سے مسلم اقلیت کے خلاف تشدد آمیز اقدامات میں کافی تیزی آئی ہے۔

 

بعض سوشل ایکٹیویسٹوں نے اجتماع میں دھمکیوں کو نسل کشی کا مترادف قرار دیا ہے۔

 

اس اجتماع میں ایک شدت پسند ٹولہ بار بار مسلم نسل کشی کی بات کرتے دکھائی دیتا ہے اور انکا کہنا تھا کہ روھنگیا طرز پر ہندوں کا اسلحہ اٹھا کر نسل کشی کرنی چاہیے۔

 

 

ایک مقرر کہتا ہے کہ وہ  مان موهن سینگ کو قتل نہ کرنے پر وہ پشیمان ہے جو روشن فکری کے حوالے سے معروف تھا۔

 

مختلف دیگر طبقوں نے بھی اس اجتماع پر تشویش کا اظھار کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

انجمن علما ہند کے سربراہ محمود مدنی نے اس اجتماع میں مقررین کی دھمکیوں کی مذمت کرتےہوئے سخت قانونی ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ کو افراد مسلم نسل کشی اور قتل عام کی بات کرتے ہیں وہ ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ان سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے، انہوں نے انڈین حکومت کی عدم توجہ کی بھی اس حوالے سے مذمت کی ۔/

4023203

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: