IQNA

7:44 - February 08, 2022
خبر کا کوڈ: 3511272
تہران(ایکنا) «فردوس آماسا» ایلورین یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہے جسکی جدوجہد حجاب کے حوالے سے زبان زد خاص و عام ہے۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۸  کو«فردوس آماسا» کو پہلی بار لاء کالج میں اساتید پینل کی جانب سے حجاب کی وجہ سے خارج کی گیی مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل حجاب کے حق میں قانونی جنگ شروع کی اور آج انکی جدوجہد کی وجہ سے یہاں طالبات حجاب کے ساتھ آتی ہیں۔

 

فردوس آماسا نے حال ہی میں ملایشیاء کی اسلامی یونیورسٹی سے لاء میں ڈگری مکمل کی اور اب نایجریا لوٹ آئی ہے۔

فردوس آماسا کو حجاب کی چمپین شمار کی جاتی ہے اور حال ہی میں ایک فہرست میں انہیں تیس معروف خواتین میں قرار دی گیی ہے جنہوں نے حجاب کے حوالے سے خدمات انجام دی ہے اوراس پر «فردوس آماسا» نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے فخر ہے۔

 

نایجریا میں ایرانی ثقافتی مرکز کے مطابق «فردوس آماسا» کے وکیل نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ مذہبی تعصبات کے خاتمے کے حوالے سے قانون سازی کی جائے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوچکی ہے۔

 

یوم حجاب کا انعقاد

رپورٹ کے مطابق نایجیریا میں حجاب کے حوالے سے خاص پروگرام منایا جاتا ہے اور اس سال بھی اسی حوالے سے ایک پریس کانفرنس «حجاب سر کا تاج» کے عنوان سے معنقد کی گیی تھی۔

 

اس دن بیس مختلف تنظیموں کی مدد سے مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

 

دس سالوں سے نایجیریا میں یوم حجاب منانے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ خواتین کے حقوق کا دفاع کیا جاسکے۔

 

یکم فروری کو دنیا کے سینکڑوں ممالک میں یوم حجاب منایا جاتا ہے جس کی تجویز امریکن مسلمان خاتون ناظمه خان نے ناین الیون واقعے کے بعد پیش کیا تھا۔

 

عالمی یوم حجاب میں غیر مسلم خواتین بھی ایک دن حجاب کے ساتھ منا کر مسلمان خواتین سے یکجتہی کا اظھار کرتی ہیں۔/

4034602

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: