اسلام میں اجتماعی انتخاب / عقلانی اور داعشی افکار کی حد فاصل

IQNA

اسلام میں اجتماعی انتخاب / عقلانی اور داعشی افکار کی حد فاصل

18:36 - August 11, 2022
خبر کا کوڈ: 3512481
اجتماعی عقل سے استفادہ بہترین راہ کے انتخاب کا درست ترین زریعہ ہے گرچہ اس کو سو فیصد درست راستہ کہنا شاید درست نہیں لیکن قابل ملاحظہ ضرور ہے۔

ایکنا نیوز- ایرانی دانشور حجت‌الاسلام و المسلمین سیدعباس قائم‌مقامی نے «عاشورا اور اجتماعی امور میں تجدید نظر» کے عنوان سے انسانی کرامت پر بحث کرتے ہوئے کہا:

انسانی کرامت بارے درست انتخاب  کرنا نہایت اہم ہے اور انتخاب و کرامت کے بیچ جس پر قرآن میں خدا نے تاکید کی ہے اس کے آثار بہت اہم ہے۔

بعض طبقوں نے دیکھا کہ انسان انتخاب میں اکثر غلطی کربیٹھتا ہے تو انہوں نے یہ راستہ نکالا کہ انسان کے انتخاب ہی کو محدود کردیں اور انسان کو اجتماعی زندگی میں انتخاب کے حق سے محروم رکھنے کی بات کی تاہم یہ سوچ انسانی فطرت اور طبیعت سے انحراف اور شرک کا مصداق ہے۔

 

البته انسان انتخاب میں اکثر غلطی کرتا رہتا ہے اور قرآن نے بارہا اس کی تشریح کی ہے:

«ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ؛ ان چیزوں کے سبب جولوگوں نے انجام دیا ہے فساد خشکی اور سمندر میں نمود ہوا »(الروم، 41). کیا کرنا چاہیے؟ کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں جو غلطی کو روکے؟

ارادہ و انتخاب گری میں فرق

ایک اہم نکتہ «انتخابگری» اور «اراده کرنے» میں فرق ہے. بہت سے فساد ارادہ کرنے سے ہوتا ہے اور ارادہ کرنے میں ارتقا کے لیے انتخاب گری کے قریب آنا ہوگا چارہ جوئی کرنی ہوگی اور اس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اس چیز کو واضح کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی از منکر انجام پایے۔

امربالمعروف وہی واضح کرنے کا عمل ہے البتہ امر بہ معروف یہ نہیں کہ آپ کسی کی ذاتی زندگی کو دوسروں کے سامنے پیش کریں اور یہاں پر مشورے کا عمل اہم ہے۔

 

اجتماعی ارادے کی پیروی

انسان کا بعض انتخاب انتہائی اہم ہوتا ہے جب آپ اپنے کو دوسروں کے برابر قرار دیتے ہیں اس وقت اجتماعی عقل کی ضرورت ہوتی ہے وہی اجتماعی عقل آپ کی عقل ہوتی ہے جب قرآن فرماتا ہے صاحب عقل اجتماعی ہوتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی عقل کو فارغ کردے۔

اگراس کام کو ہم نے انجام دیا تو پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے سو فیصد درست انتخاب کیا ہے لیکن قابل ملاحظہ ضرور ہے۔

فقہ میں«حقانیت» و «حجیت» میں فرق ہے ہم فیصلے میں حقیقت کے درپے نہیں یہ سوچ عقلی اور داعشی سوچ کی سرحد ہے۔

نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ اس لمحے اپنی ذمہ داری کو حقیقت کے برابر انجام دیتے ہیں اور یہی کافی ہے، توکل اس لیے کہ انسان غلطی کی گنجائش رکھتا ہے اگر آپ نے توکل کیا اور غلطی میں پڑے تو خدا تلافی کرے گا۔

لہذا ارادہ کرنا ایک میکنزم ہے تاکہ انتخاب گری کی سطح میں ارتقا ہو اور غلطی کی گنجائش کم رہ جایے اور اسی طرح اس روش میں ملامت یا غم کم ہے اور یہ عقلی راستہ ہے  اور اس کو حجت شمار کیا جاسکتا ہے اور اس سے دلیل لائی جاسکتی ہے۔

4077112

نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha