امریکی نمایندے کی جانب سے قرآن سوزی پر انجمن علمائے یمن کا ردعمل

IQNA

امریکی نمایندے کی جانب سے قرآن سوزی پر انجمن علمائے یمن کا ردعمل

6:52 - August 30, 2025
خبر کا کوڈ: 3519064
ایکنا: انجمن علمائے یمن نے بیان میں امریکی کانگریس کے انتخابات میں ایک ریپبلکن امیدوار کی جانب سے قرآنِ مجید کو نذرِ آتش کرنے کے سنگین جرم کی شدید مذمت کی ہے۔

ایکنا نیوز، ویب سائٹ «26sep.net»  کے مطابق انجمن علمائے یمن نے اپنے بیان میں قرآن سوزی کے اس واقعے کو مسلمانوں کے مقدس ترین مقدسات پر کھلا حملہ اور اسلام دشمنی کی واضح عکاسی قرار دیا ہے، جو دراصل امریکی حکومت کی پالیسیوں کی اصل سمت کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قرآن سوزی کے جرائم کو ان سلسلہ وار خلاف ورزیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو واشنگٹن اور صہیونی رژیم فلسطین، یمن، عراق، شام اور دیگر مقامات پر اسلامی اُمت کے خلاف انجام دیتے ہیں۔

انجمن علمائے یمن نے اس بیان میں بعض عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے اس سنگین جرم پر مشکوک خاموشی کی مذمت کی اور اس خاموشی کو انحطاط اور خیانت کی انتہا قرار دیا، جس میں حکومتیں، علما اور امت کے بڑے طبقے شامل ہیں، جو دشمن کے وفادار بن چکے ہیں اور قرآن و اہلِ قرآن سے منہ موڑ چکے ہیں۔

بیان میں زور دیا گیا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس خطرناک تاریخی لمحے میں ایک جامع اور متحدہ اقدام کریں۔ امت مسلمہ کے عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس جرم کی سنگینی کے مطابق غصے اور انکار کا عملی اظہار کریں اور امریکی دشمن، صہیونی رژیم اور ان کے حامی غلاموں اور وابستہ حکومتوں کے مقابلے میں متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

انجمن علمائے یمن نے بیان کے آخر میں کہا کہ اسلامی مقدسات کی بار بار توہین پر خاموشی دشمنانِ اسلام کو مزید تجاوزات پر اُکساتا ہے۔ اس بار جواب محض کھوکھلے بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں ہونا ضروری ہے۔ انجمن کے مطابق آج اسلامی وقار خطرے میں ہے اور قرآن کی حقیقی نصرت ان افراد کا مقابلہ کرنے سے شروع ہوتی ہے جو اسے قول، فعل اور منصوبہ بندی کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار والنتینا گومز نے 4 ستمبر کو ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس نے قرآنِ مجید کو آگ لگا کر اس کی توہین کی۔ اس اقدام کا مقصد اس ملک کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی توجہ حاصل کرنا تھا۔ قرآن کو آگ لگاتے وقت اس نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر وہ امریکی کانگریس کے انتخابات میں کامیاب ہوئی تو ٹیکساس سے اسلام کا خاتمہ کر دے گی۔/

 

4302231

نظرات بینندگان
captcha