یمن کی قرآنی فاونڈیشن "نون" نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ جامعہ الازہر کا وہ مؤقف، جس میں خلیج فارس کے ممالک میں دشمن کے فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے، قرآنِ کریم کی اس دعوت کے منافی ہے جو حق اور حقیقت کی حمایت کا حکم دیتی ہے۔
جب مظلوم فلسطینی عوام اور بہت سے اسلامی ممالک صہیونی رژیم کے ظلم و جارحیت کا شکار تھے، تو بعض عرب ممالک نے اس ناپاک رژیم کے ساتھ خفیہ تعلقات کو مضبوط کیا؛ ایسا طرزِ عمل جس پر قرآنِ کریم سخت وعید بیان کرتا ہے۔
حزبالله لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں کہا کہ لبنان اس وقت ایک دفاعی جنگ لڑ رہا ہے اور امریکہ- صہیونی جارحیت کے مقابلے میں ایران ہی کامیاب ہوگا۔
سورۂ حج کی آیت 39 یہ بیان کرتی ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی پوری توانائی اور وسائل کو بروئے کار لائیں، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد کے منتظر رہیں۔
نامور مرجع تقلید ایران اور لبنان کے لیے مالی امداد کی وصولی اور تقسیم کے طریقہ کار کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں، تاکہ اس عمل کو منظم اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
اسلامی حکومت کسی سے جنگ نہیں چاہتی، لیکن اگر اس پر تجاوز کیا جائے، فتنہ برپا کیا جائے یا خوف و ہراس پھیلایا جائے تو وہ مقابلہ کرنے کی پابند ہے، تاکہ اللہ کی مدد شاملِ حال ہو۔
جس طرح حضرت یعقوبؑ نے بنیامین کو بھیجنے کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اللہ کے نام پر ایک مضبوط عہد و پیمان دیں، اسی طرح منجی کے ظہور کے لیے بھی منتظر امت سے ایک بھاری ضمانت اور مضبوط عہد درکار ہے۔
جنگِ رمضان کے دوران ایک طرف اسلامی ایران ہے اور دوسری طرف امریکہ اور صہیونی رژیم اور ان کے اڈے، جو مغربی ایشیا کے مسلمان عرب ممالک میں قائم ہیں۔ اس تقسیم کے بارے میں قرآنِ کریم کیا کہتا ہے؟
نامور ایرانی قاری ابوالفضل قدیانی نے مہم " فتح کی سمت ولایت کے ساتھ" میں شامل ہو کر رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے ساتھ اپنی بیعت کا اعلان کیا۔
شہید رہبرِ انقلاب نے سال 1404 کے دوران اپنی تقاریر اور ملاقاتوں میں اپنے بیانات کی وضاحت کے لیے 23 سورتوں اور 48 آیات کا حوالہ دیا، جن میں سورۂ "مدثر" 5 مرتبہ اور سورۂ "آلِ عمران"کی آیت 139 دو مرتبہ سب سے زیادہ دہرائی گئیں۔
سورۂ توبہ کی آیت 120 کا اطلاق آج کی جنگی صورتحال پر بھی ہوتا ہے، جس میں عوام کی مختلف قسم کی جدوجہد شامل ہے، خصوصاً ایسے میدانوں میں قدم رکھنا جو دشمنوں کے غصے کو بھڑکاتے ہیں۔