IQNA

15:51 - April 12, 2008
خبر کا کوڈ: 1642316
مترجم:منتظر مہدی ترتيب و پيشكش: ادريس احمد علوی پہلا سوال:قرآن كريم میں بعض مقامات پر" ذلك الكتاب" اور بعض مقامات پر" ھذا الكتاب" كے ذريعے اشارہ كيا گيا ہے۔ كيا دو قرآن ہیں ؟
جواب: قرآن كريم میں كہیں پر بھی ھذا الكتاب نہیں آيا ليكن ھذا القرآن،يا تلك آيات الكتاب جيسی تعبيرات موجود ہیں۔ ليكن ھذا الكتاب كے ذريعے اشارہ نہیں كيا گيا۔ صرف قرآن میں ايك جگہ ذكر ہوا ہے كہ مالھذا الكتاب لا يغادر صغيرہ و لا كبيرہ الاّاحصارھا﴿كھف / ۴۹ ﴾ ليكن یہ قرآن سے مربوط نہیں ہے، بلكہ قيامت كے دن نامہ اعمال كی طرف اشارہ ہے كہ جسے ديكھ كافرتعجب كرے گا كہ كس طرح ميرے سارے اعمال درج ہیں۔ بنا براين ھذا الكتاب كا جملہ قرآن میں موجود نہیں ہے كہ جسمیں قرآن كی طرف اشارہ كيا گيا ہو۔ ليكن بر فرض اگر ہو بھی تو اسمیں كوئی مشكل پيش نہیں آتی كہ ايك مقام پر اس حقيقت كی طرف فقط ذلك كے ذريعے اشارہ كيا گيا ہو اور ايك مقام پر اسم نزديك يا ضمير نزديك كے ذريعے اشارہ كياگيا ہو، اور جيسا كہ ہم نے عرض كياہے كہ ذلك الكتاب كے كئی معانی بيان كیے جا سكتے ہیں۔ ان میں سے ايك معنی یہ ہےكه اگرچہ كتاب آپ كے سامنے ہے ليكن عظمت والی كتاب ہے اس لئے ايسے لفظ كا استعمال كرتے ہیں جو دور كے لیے بولا جاتا ہے۔ مثال كے طور پر آپ جب ايك شخص سے گفتگو كررهے ھوتے ہیں اور جب آپ اس كا احترام كرنا چاہتے ہیںتو كھتے ھیں آنجناب نے اس طرح فرمايا ہے در حالانكہ وه شخص آپ كے سامنے بیٹھا ہواہے۔ يا یہ معنی بيان كيا جاتا ہے كہ ذلك، يعنی وہ چيز جو آپ كے ذھن میں موجود تھی اور آپ سب اس كے منتظر تھے، ذلك الكتاب يعنی یہ ہے جو آپ كے سامنے ہے كہ ہم نے '' اس كتاب '' كے ذريعے ترجمہ كيا ہے، يعنی جس كتاب كے آپ منتظر تھے وہ یہ ہے، بنا براين اس میں كوئی اعتراض والی بات نہیں ہے كہ ہم ايك حقيقت كی طرف بعض اوقات ايسے لفظ كا استعمال كریں جو دور پر بولا جاتا ہے اور بعض اوقات ايسے لفظ كا استعمال كریں جو نزديك كے لیے بولا جاتا ہے۔ اور اس كا یہ معنی نہیں ہے كہ وہ دو چيزیں ہیں۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: