IQNA

14:31 - November 10, 2015
خبر کا کوڈ: 3446733
بین الاقوامی گروپ: مدارس، کالعدم تنظیموں اور فرقہ وارانہ تنظیموں کی بیرونِ ممالک سے امداد، نفرت انگیز تقاریر اور مدارس میں اصلاحات میں مشکلات درپیش

ایکنا نیوز- گذشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ، پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات اور دیگر سینیئر سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

ڈان نیوزکے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس میں قومی سلامتی کے مسائل زیر غور آئے اور نیشنل ایکشن پلان کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا گیا۔‘

حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران پلان کے اُن حصوں پر بات چیت کی گئی جہاں پیش رفت سست روی کا شکار تھی۔

نیشنل ایکشن پلان کے کچھ عوامل جن کی صورت حال کو خراب قرار دیا گیا، ان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف ایکشن، مدارس، کالعدم تنظیموں اور فرقہ وارانہ تنظیموں کی بیرونِ ممالک سے امداد، نفرت انگیز تقاریر اور مدارس میں اصلاحات شامل ہیں۔

اجلاس کے شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی سطح پر فوج اور سویلین حکام کے تعاون میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے مستقل بنیادوں پر حل میں حائل رکاوٹوں پر تشویش اظہار کیا گیا ہے۔

’اس کے باوجود کہ ان مسائل کی کئی بار نشاندہی کی جاچکی ہے، حکومت تاحال ان پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔‘

اجلاس کے دوران ملک میں اُٹھنے والی فرقہ واریت کی حالیہ لہر پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔

1029106

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: