IQNA

11:48 - September 15, 2019
خبر کا کوڈ: 3506622
بین الاقوامی گروپ-راشدہ طلیب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وادی سے مواصلات کی معطلی اور کرفیو کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

ایکنا نیوز- اناطولیہ نیوز کے مطابق راشدہ طلیب نے ایک بیان میں کہا کہ ‘بھارت بغیر کسی وجہ کے زیرحراست ہزاروں افراد سے قانون کے مطابق برتاؤ کرے اور ادویات، ہسپتالوں سمیت دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی یقینی بنائے’۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی خود مختاری اور حق خودارادیت کو بحال کرنے والی اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کرے’۔

 

کانگریس کی رکن نے کہا کہ ‘ہم برسوں سے امن اور خودداری سے زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والے لاکھوں کشمیریوں کو کھو نہیں سکتے’۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے علاوہ وادی میں مواصلات کے نظام کو معطل کرنے اور کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر پابندیوں کی مذمت کی۔

 

راشدہ طلیب کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کے لیے میرا بڑا احترام ہے اور امریکا کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات ہیں لیکن میں بھارت کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی، مواصلات پر پابندی عائد کرنے، ادویات کو روکنے، جبر و تشدد کی بڑھتی لہر کی اطلاعات سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی ہوں’۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ‘مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ناقابل قبول کارروائیوں نے کشمیریوں کو ان کے انسانی وقار سے محروم کردیا ہے، لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کردیا ہے اور بھارت اور کشمیر میں جمہوریت کو کمزور کردیا ہے’۔

 

فلسطینی نژاد امریکی قانون ساز کا کہنا تھا کہ ‘لوگوں کو غیر منصفانہ گرفتاری، ریپ، تشدد کا خوف نہیں ہونا چاہیے’۔

 

بیان میں کانگریس رکن نے کہا کہ میں ریاست مشی گن میں کئی رہائشیوں سے ملاقات کرچکی ہوں کہ جو مقوضہ کشمیر میں اپنے خاندان سے ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے رابطے نہیں کرپائے ہیں۔

 

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘تشدد کی ناقابل فہم صورت حال، ملٹرائزیشن اور قبضہ بدستور جاری ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر روئے ارض میں سب سے زیادہ فوج سے بھرا ہوا خطہ ہے اور بھارت کے حالیہ اقدامات نے مزید عدم استحکام پیدا کردیا ہے جو تشدد کی شدت کو مزید بڑھانے کا باعث بن گئے ہیں’۔

نام:
ایمیل:
* رایے: