IQNA

17:08 - February 13, 2020
خبر کا کوڈ: 3507232
بین الاقوامی گروپ- اسلاموفوبیا سے نمٹنے، اسلامی یکجہتی کے فروغ اور خطے کے امن، سیکیورٹی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم گفتگو متوقع ہے۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ اردوان کا استقبال کیا۔

ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔

اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استقبالی پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے۔

بعدازاں ترک صدر اور ان کی اہلیہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں ترک سفیر مصطفیٰ یرداکل نے کہا تھا کہ رجب طیب اردوان کا دورہ اسلام آباد تاریخی موقع ہے اور دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی جانب اہم قدم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) تکمیل کے مراحل میں ہے اور ترکی اس منصوبے میں قائم ہونے خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ترک صدر 13 سے 14 فروری کے دوران دونوں ممالک کے مابین ’روایتی یکجہتی اور تعلق‘ کے فروغ اور پاک-ترک اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید توسیع کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔

بیان کے مطابق اسلاموفوبیا سے نمٹنے، اسلامی یکجہتی کے فروغ اور خطے کے امن، سیکیورٹی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ’متحرک تعاون‘ کے منصوبے بھی ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد کا ایک منفرد اور مستقل تعلق موجود ہے، دونوں برادرانہ ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے ثابت قدم رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: