IQNA

19:30 - February 29, 2020
خبر کا کوڈ: 3507301
تہران( ایکنا) امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط/ پاکستان کے بغیر یہ معاہدہ ممکن نہ تھا۔ وزیر خارجہ

جیو نیوز کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی تقریب میں افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے۔

دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

امریکا اورافغان حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج 14 ماہ میں مکمل انخلاء کریں گی اور یہ منصوبہ طالبان کی جانب سےامن معاہدےکی پاسداری سےمشروط ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق امریکا اور افغانستان جامع امن معاہدے پر مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں، امن معاہدہ 4 نکات پر مشتمل ہوگا جو درج ذیل ہیں۔

  1. افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملے کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔
  2. امریکا اور اتحادی افواج کے انخلا کا ٹائم لائن دیا جائے گا۔
  3. بین الافغان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں سیاسی استحکام لایا جائےگا اور طالبان اور افغانستان کی شمولیتی مذاکراتی ٹیم کےدرمیان مذاکرات ہوں گے۔
  4. افغانستان میں مستقل اور  وسیع البنیاد جنگ بندی ہوگی۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان اس امن معاہدے کے بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہونے ہے جنہیں بین الافغان مذاکرات کہا جاتا ہے۔

امن معاہدے کے مطابق افغان طالبان 10مارچ سے بین الافغان مذاکرات شروع کریں گے۔

14ماہ کے اندر  غیرسفارتی عملہ، نجی سیکیورٹی کنٹریکٹرز، ٹرینرز بھی افغانستان سے نکال لیے جائیں گے۔

امن معاہدے کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ملک میں پائیدار قیام امن کے حوالے سے مذاکرات شروع ہوں گے۔

معاہدے کے تحت 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار اور افغان فورسز کے ایک ہزار کے قریب قیدی رہا کیے جائیں کے اور اس کے بعد ہی بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔

خیال رہے کہ نائن الیون واقعے کے چند ہفتے بعد امریکا نے ستمبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔ اب تک اس جنگ میں 24 ہزار سے زائد امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 14 ہزار کے قریب امریکی فوجی اور 39 ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کے 17 ہزار کے قریب فوجی موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد افغان جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

تقریب سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکااورطالبان دہائیوں سےجاری تنازعات کوختم کررہےہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ تاریخی مذاکرات کی میزبانی پر امیرِ قطر کے شکرگزار ہیں۔

مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن ڈیل سے افغانستان میں امن قائم ہوگا، اگر طالبان نے امن معاہدے کی پاسداری کی تو عالمی برادری کا رد عمل مثبت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغان عوام معاہدے پر خوشیاں منا رہے ہیں، امن کے لیے زلمے خلیل زاد کا کردار قابل تعریف ہے، امن کے بعد افغانیوں کو  اپنےمستقبل کا تعین کرناہے۔

پومپیو نے کہا کہ امن کے لیے امریکی اور افغان فورسز نے مل کر کام کیا، آج امن کی فتح ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے وعدے پر قائم رہیں، میں جانتا ہوں کہ اسے فتح قراردینا مناسب نہ ہوگا، افغانوں کی فتح اس وقت ہوگی جب وہ امن اورخوشی سے رہ سکیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا طالبان مذاکرات کو کامیاب بنانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، امن معاہدہ امریکا،افغانستان اورپوری دنیا کیلئے فتح ہے، امن معاہدہ افغان قوم کےمستقبل کا تعین کرےگا،امن معاہدےکی کامیابی طالبان اور دیگر فریقین کی پاسداری پر منحصر ہے، امید ہے افغان سرزمین امریکا کےخلاف استعمال نہیں ہوگی۔

215329

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: