IQNA

15:42 - April 04, 2020
خبر کا کوڈ: 3507462
تہران(ایکنا) پاکستان کے مختلف صوبوں سے ہزاروں زائرین دو بار ٹیسٹ اور دوبار قرنطینہ گزار کر بھی آزادی سے محروم۔

کورونا پوری دنیا کے لیے وبا کی شکل میں ایک مسئلہ بن چکا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے تمام طبقے بغیر تفریق رنگ و نسل و مذہب کے مقابلے کے لیے یکجا ہورہے ہیں وہی پاکستان میں کورونا کے ہمراہ رنگ و نسل اور مذہب میں تفریق کا سلسلہ چل نکلا ہے۔

ملتان قرنطینہ میں 1200سے کے قریب زائرین مسافروں میں سے نیگیٹوآنے والے 1162 افراد جنہیں آج ملتان قرنطینہ مرکز سے انہیں 14روزہ مدت پوری کرنے کے بعد زائرین کو ان کے گھروں کوروانہ کرنے سے روک دیاگیا ہے اور زائرن کو گاڑیوں میں کئی گھنٹے بیٹھا کر دوبارہ اتار کر انہیں بلڈنگ میں جانے کا کہا گیا جس پر زائرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے احتجا ج شروع کر دیا اور زائرین نے دوپہر اور شام کا کھانا بھی واپس کر دیا۔زائرین کا احتجاج جاری ہے۔

 

زائر مسافروں کا کہناہے کہ حکومت کی پالیسی آغاز سے ہی خیانت پرمذکورہے پہلے تفتان بارڈرپر ایک سازش کے تحت 14روزتمام زائرین کو ایک جگہ رکھا گیا تاکہ صحت مند زائر ین کو کورونا مرض میں مبتلا کیاجائے اور یہی پریکٹس ملتان قرنطینہ میں کی جارہی ہے،انتظامیہ کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملتان قرنطینہ میں صرف 80کے قریب زائرین کے ٹیسٹ مثبت آئے اور باقی 1162زائر مسافروں کے رزلٹ نیگٹو آئے تھے جنہیں آج14روز ہ مدت پوری ہونے کے بعد انہیں ان کے گھروں کو روانہ کیا جانا تھا۔

ملتا ن قرنطینہ میں مدت پوری کرنیوالے زائرین کا احتجاج

زائرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور انتظامیہ زائرین کو فنڈ کے حصول کیلئے قربانی کا بکرا بنانا چاہتی ہے اور یہ دوہرا معیار ہے کہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے مسافروں کو چیکنگ کے بغیر ان کو گھروں کو جانا دیا گیا اور وہی لوگ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے اور ہم لوگ ایک ماہ سے انتظامیہ کی تحویل میں قید ہیں اور ہمیں بد نام کیا جارہاہے۔

 

زائرین کا کہنا تھا کہ رینڈم ٹیسٹ میں دو افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا اسے جواز بنا کر تمام افراد کو روکنا درست اقدام نہیں، احتجاج کے دوان زائرین نے مذاکرات کیلئے آئے ہوئے آر پی او ملتان سے کہا ہے کہ وہ کئی بار ٹیسٹ کرواچکے ہیں اور وہ اب ٹیسٹ نہیں کرائیں گے وہ گھر جائیں گے یا مر جائیں گے، زائرین نے صبح دس بجے تک کا وقت دیا ہے۔

ملتا ن قرنطینہ میں مدت پوری کرنیوالے زائرین کا احتجاج

دوسری جانب شیعہ علماء کونسل جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر علامہ موسی رضا جسکانی نے  اپنے وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 14روز تفتان میں مدت پوری کرنے کے بعددو روز سفر اور پھر14روزملتان قرنطینہ میں بھی زائرین مدت پوری کرچکے ہیں اور جن افراد کے نیگٹو رزلٹ آئے  ان کے گھر وں کو نہ بھیجنا سراسرزیادتی اور ظلم ہے،عدالت عظمٰی کو بھی چاہیے کہ وہ فوراًنوٹس لے۔

 

 

 انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ایران سے آئے ہوئے زائرین، طلباء اور دیگر افراد کو 14روز تفتان بارڈر پر جہاں حکومت کی جانب سے انتظامات نام کی کوئی شے نہیں تھی وہاں رکھا گیا اور پھر دودن تفتان بارڈڑ سے طویل ترین دشوار سفر طے کر کے ملتان قرنطینہ مرکز میں بھی 14روزپر امن گذارنے کے باوجود ان لوگوں کے کئی بار سیمپل لئے گئے جو نیگٹو آئے۔

 

علامہ موسیٰ رضا جسکانی کا مزید کہنا تھا کہ زائرین کو انکے گھروں سے جانے روکنے کی جب یہ خبر عوام میں پہنچی تو عوام میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے حالا ت بے قابو ہوتے جارہے ہیں اس سے پہلے کہ حالات سنبھالنا مشکل ہو جائیں فوری طور پر زائرین کو ان کے گھروں کو روانہ کیا جائے ورنہ تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔یہ پاکستان کے آزاد شہری ہیں انہیں فوری طور پر ان کے گھروں کو روانہ کیا جائے، اب انہیں کچھ دیر کیلئے بھی قرنطینہ مرکز میں رکھنا بلاجواز ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: