IQNA

8:51 - July 08, 2020
خبر کا کوڈ: 3507885
تہران(ایکنا) «سیاسی اسلامو فوبیا امریکن اسٹریٹیجک مراکز میں» کتاب کی مصنف حکیمه سقای بی‌ریا نے ان مراکز کو اصل پالیسی میکر قرار دیا ۔

«سیاسی اسلامو فوبیا امریکن اسٹریٹیجک مراکز میں» کتاب (Political Islamophobia at American Institutes: Battling the Power of Islamic   Resistance)    کی مصنفہ اور تہران یونیورسٹی کی استاد «حکیمه سقای بی‌ریا» کی کتاب کی رونمائی ایکنا مرکز میں منعقد ہوئی۔

 

۲۱۰ صفحات پر مشتمل کتاب لندن اسلامی انسانی حقوق مرکز کے پبلشرز کے تعاون سے  شایع کی گیی ہے۔

 

مشی گن میں عالمی مطالعاتی مرکز کے استاد سعید خان جوWayne State University) نے اس کتاب کو امریکن اسٹریٹیجک مراکز کی شناخت کے حوالے سے بہترین کتاب قرار دیا ہے۔

لندن اسلامی انسانی حقوق تنظیم کی مسعود شجره نے بھی اس کتاب کو امریکن پالیسیوں کی شناخت کے حوالے سے مفید قرار دیا ہے۔

شجره نے اسلامی ممالک کے حوالے سے امریکن پالیسیوں میں ان مراکز کے کردار کو موثر قرار دیا ہے۔

ویڈیو کا کوڈ

اسلامی دنیا کے حوالے سے مغرب کا کردار

حکیمه سقای بی‌ریا کا کہنا تھا: امید ہے امریکن پالیسیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی. اسلام فوبیا کا قصہ نیا نہیں اور ہم ماضی سے کبھی فیزیکلی تشدد کا شکار انہیں مغربی ممالک سے رہے ہیں اور اب ثقافتی اور ائیڈولوجیکل تشدد کے سامنا کررہے ہیں۔

 

یونیورسٹِی ریسرچر:امریکن اسٹریٹیجک مراکز مقاومت اسلامی کے خلاف حقیقی سیاست گزار

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر تسلط کے حوالے سے بلاشبہ امریکن اسٹریٹیجک مراکز کا کرادر نہایت موثر رہا ہے۔

 

کتاب کی شناخت اور طرز تحریر

ویڈیو کا کوڈ

سقای بی‌ریا کا کتاب لکھنے کے حوالے سے کہنا تھا: شرق شناسی کا شوق اور مغربی کی پالیسیوں کی شناخت نے مجھے اس کام پر مجبور کیا۔

بی‌ریا کا کہنا تھا: اس کتاب میں امریکن اسٹریٹیجک مراکز پر تاریخی حوالے سے نظر ڈالی گیی ہے ، ان مراکز سے وابستہ اکثر افراد پہلے حکومتوں میں رہے یا آنے والی حکومتوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔

یونیورسٹِی ریسرچر:امریکن اسٹریٹیجک مراکز مقاومت اسلامی کے خلاف حقیقی سیاست گزار

اس کتاب میں رینڈ کارپوریشن Rand Corporation)، بروکینگز (Brookings Institiution)  اور واشنگٹن انسٹیٹوٹ (The Washington Institute for Near East Policy)   پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

 

ڈھانچہ اور امریکن مراکز کا اثر

انکا اس بارے میں کہنا تھا: امریکہ میں ۱۹۰۰ اسٹریٹیجک مراکز فعال ہیں جنکا کام نظریہ پردازی اور عملی سیاست میں تعلق قائم کرنا ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ان مراکز میں کافی اضافہ ہوا جنکا کام اسلامی امور پر نظر رکھنا ہے۔

بی‌ریا کا کہنا تھا کہ ان مراکز میں مصروف افراد اقتصادی اور سیاسی حوالے سے نہایت اہم موثر افراد ہیں جو امریکن صدور اور پالیسی بنانے والوں کو تجاویز پیش کرتے ہیں.

 

طرز روش کتاب

ان کا کتاب کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس کتاب میں تین مختلف طرز فکر رکھنے والے اسٹریٹیجک مراکز کو انتخاب کیا گیا ہے۔  رند اسٹریٹیجک مرکز جو مکمل طور پر امریکی حکومت سے ہم آہنگ ہے اور امریکن بحریہ کے توسط سے قایم کیا گیا ہے۔

یونیورسٹِی ریسرچر:امریکن اسٹریٹیجک مراکز مقاومت اسلامی کے خلاف حقیقی سیاست گزاریونیورسٹِی ریسرچر:امریکن اسٹریٹیجک مراکز مقاومت اسلامی کے خلاف حقیقی سیاست گزار

 بروکینگز اسٹریٹیجک مرکز ایک لیبرل مرکز ہے جو زیادہ تر ڈیموکریٹس سے ہم آہنگ ہے ۔

وینپ اسٹریٹیجک مرکز جو ظاہری طور پر دونوں بڑی جماعتوں سے ہم آہنگی کا دعوی کرتا ہے مگر زیادہ تر دائیں بازو کی پارٹی سے ہم آہنگ ہے۔

 

بی‌ریا کا کہنا تھا: ہم نے اس کتاب میں چار سوال اٹھائے ہیں.  یہ مراکز مغربی دنیا اور اسلام دنیا کے حوالے سے کیا سوچتا ہے؟ کس کو اسلام دنیا کی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتا ہے؟ مشکلات کے حل کے حوالے سے کیا راہ حل پیش کرتا ہے؟

 

اسلاموفوبیا ٹرینڈ بن چکا ہے

اسلام فوبیا نسل پرستی سے جوڑا ہوا ہے اور نسل پرستی ہے تو اسلامو فوبیا بھی موجود ہے۔ انفرادی طور پر اسلاموفوبیا سے ہٹ کر سرکاری سطح پر دونوں بڑی جماعتوں کی پالیسیوں میں اسلامو فوبیا کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں۔

 

نتیجه تحقیق

انکا کتاب  کے نتیجے کے بارے میں کہنا تھا: ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ تفرقہ ڈالنے کی پرانی روش ناکام ہوچکی ہے اور اسلامی مزاحمت روبروز مضبوط تر ہوتی جارہی ہے.

 

بی‌ریا کا کہنا ہے کہ بروکینگز اسلام پسندوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ایک میانہ رو اور دوسرا شدت پسند جو اسلام کو سیاسی طور پر استعمال کرتا ہے جیسے جمهوری اسلامی ایران ، حزب‌الله یا حماس. بروکینگز  کا کہنا ہے کہ ہمیں میانہ رو اسلام پسندوں سے نزدیک ہونا ہوگا.

 

انکا کہنا تھا کہ رند اور واشنگٹن اسٹریٹیجک مراکز اسلام کو سیاسی طور پر پیش کرنے والوں کو شدت پسند کہتے ہیں اور انکے مطابق میانہ رو وہ ہے جو کہے پہلے میں امریکن یا جرمن ہو پھر مسلمان۔

انکا کہنا تھا کہ واشنگٹن اسٹریٹیجک مرکز جو صھیونی لابی سے نزدیک ہے مسلمانوں میں میانہ روی پھیلانے کا حامی ہے اور فلسطینیوں میں بھی اس حوالے سے کام پر تاکید کرتا ہے۔

 

اسلام فوبیا اور نسل پرستی

انکا کہنا تھا کہ نسل پرستی اور اسلامو فوبیا میں گہرا تعلق موجود ہے اور مغرب میں  ۲۳ سے ۳۵ فیصد سیاہ فام اسلام فوبیا اور نسل پرستی کا یکجا تجربہ کررہے ہیں. اور اس وقت جو امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف لہر اٹھی ہے اس کو مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ویڈیو کا کوڈ

انکا کہنا تھا: اسلامی دنیا کی فکری رھبری اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہے

اور انقلاب اسلامی جو امام خمینی(ره) اور اب رهبری (مدظله‌العالی) کی قیات میں اسلامی مزاحمت بیداری کی سمت گامزن ہے.

 

بی‌ریا کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کتاب کی دوسری جلد بھی لکھنا چاہتی ہے۔/

3909159

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: