IQNA

9:01 - July 14, 2020
خبر کا کوڈ: 3507921
تہران(ایکنا) ترک صدر کی جانب سے ایاصوفیه میوزیم کو مسجد میں بدلنے کے حکم کے بعد ترجمان نے عیسائی علامات کے حوالے سے بیان جاری کردیا۔

ترک صدر کے ترجمان ابراهیم کالن کا کہنا تھا: ایاصوفیه کی تاریخی اور مذہبی حیثیت برقرار رہے گی اور اس مکان کو یہاں کے مختلف مذہبی علامات کی وجہ سے تمام سیاحوں کے لیے بھی کھولا رکھا جائے گا۔

 

انکا کہنا تھا کہ یونیسکو کی جانب سے رجسٹرڈ شدہ اس تاریخی مکان کوتمام مسیحی برادری اپنے مذہبی علامات کی وجہ سے زیارت کرسکتی ہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ تمام علامات کو محفوظ رکھا جائے گا اور گنبد کی دیواروں پر عیسائی علامات اور عربی و عثمانی دور کی خطاطی محفوظ ہیں اور عیسائی علامات جو ساتویں صدی میں تخریب کیے گیے تھے سب کی دوبارہ مرمت کی گیی ہے۔

 

فتح قسطنطنیه سال ۱۴۵۳ کے بعد عثمانی بادشاہ سلطان محمد فاتح نے ایاصوفیہ کی دیواروں پر جہاں حضرت مریم(س)، عیسی مسیح(ع) اور یوحنا معمدان کی پینٹنگ تھی سب کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا.  سال ۱۸۴۷میں عثمانی بادشاہ عبدالمجید، نے سوئیزرلینڈ کے دو انجنیر گاسپار اور ژوسبی فوساتی (Gaspare ve Giuseppe Fossati)  کو ایاصوفیہ میں تمام آثار کی مرمت کا کام سونپا تھا۔

 

چوبیس جولائی ایاصوفیه مسجد میں تبدیل ہوگا

رپورٹ کے مطابق ایاصوفیه کو رسمی طور پر جامع مسجد جامع میں بدلنے کے لیے افتتاحی تقریب ۲۴ جولائی کو منعقد ہوگی۔

 

ایاصوفیه میں نماز عید منعقد کرانے کے حوالے سے بھی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور نماز کے دوران تمام مسیحی علامات پر چھپایا چائے گا؛ تاہم نماز کے بعد تمام دوبارہ نمایاں کیے جائیں گے۔

 

ترکی کی دیانت تنظیم کی جانب سے دو امام جماعت اور چهار مؤذن جامع مسجد ایاصوفیه کے لیے مقرر کیے گیے ہیں اور مسجد میں ۲۴ گھنٹے قران کی تلاوت ہوگی جبکہ کورونا کی وجہ سے ایس او پیز پر بھی عمل پر تاکید کی گیی ہے۔/

3910233

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: