IQNA

12:08 - January 05, 2021
خبر کا کوڈ: 3508726
صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں 11 کان کنوں کے سفاکانہ قتل پر ان کے لواحقین اور ہزاروں افراد نے مغربی بائی پاس پر میتیں رکھ کر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

 وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر پیر کو وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کوئٹہ پہنچے اور سوگورا برادری سے مذاکرات کیے۔

انہوں نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ حکومت، صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے کے مطالبے کے سوا ان کے تمام مطالبات ماننے کو تیار ہے، ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ وہ اپنا مظاہرہ ختم کرے تاکہ لاشوں کو دفنایا جاسکے۔

تاہم ہزارہ برادری نے ان کی اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور صوبائی دارالحکومت میں انتہائی سرد موسم کے باجود خواتین اور بچوں سمیت لواحقین نے مغربی بائی پاس چھوڑنے سے انکار کردیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت گھر جائے اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔

اس واقعے میں اپنے گھر کے 5 افراد کو کھونے والی تھڑڈ ایئر کی طالبہ معصومہ یعقوب علی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان میں کوئی مرد زندہ نہیں رہا جو میرے بڑے بھائی اور دیگر 4 رشتہ داروں کو دفنا سکے‘،

 

انہوں نے کہا کہ ان کے 5 بہن بھائیوں میں ان کا بھائی والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور گھر کا واحد کمانے والا تھا۔

 

مظاہرین سے مذاکرات کے دوران شیخ رشید نے برادری کو یقین دہانی کروائی کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

 

اس موقع پر شیخ رشید احمد نے مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اعلان کیا کہ ہر متاثرہ فرد کے خاندان کو 25 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

 

وزیر داخلہ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’مچھ میں قتل عام پر مجھے شدید افسوس ہے‘۔

 

انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے مطالبات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا، ساتھ ہی انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں کو کہا کہ وہ اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کے لیے 5 یا 7 رکنی کمیٹی تشکیل دیں۔

 

علاوہ ازیں سرکاری ذرائع کا کا کہنا تھا کہ 2 کوئلہ کان کنوں کی لاشوں کو افغانستان بھیج دیا گیا۔

 

ایک ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’خاندان کے افراد 2 لاشوں کو تدفین کے لیے انہیں افغانستان میں اپنے آبائی علاقے لے گئے‘۔

 

احتجاج کے مقام پر ہزارہ برادری کے ساتھ ایم ڈبلیو ایم، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

 

اس مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے صدر سید آغا رضا نے اعلان کیا کہ جب تک ہزارہ برادری کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے لاشوں کو نہیں دفنایا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ ’ہم ہزارہ افراد کے تحفظ کے لیے دھرنا دے رہے ہیں جو ایک طویل عرصے سے اس طرح کے قتل کا سامنا کر رہے ہیں اور اس صورتحال سے تنگ آچکے ہیں‘۔

 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو مستعفی ہونا چاہیے کیونکہ وہ ہزارہ برادری کے افراد کا تحفظ کرنے میں مسلسل ناکام ہوگئی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے تک ہم یہ احتجاج جاری رکھیں گے‘، مزید یہ کہ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے موجودہ اور ریٹائرڈ ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا مذاکرات کے لیے وزیراعظم عمران خان کے آنے تک جاری رہے گا تاکہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

 

علاوہ ازیں صوبائی وزرا میر ظہور احمد بلیدی اور نور محمد ڈمر اور ڈپٹی کمشنر اورنگزیب بادینی نے بھی ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں سے مذاکرات کیے تاہم یہ ناکام رہے کیونکہ احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے مذاکرات کے لیے وزیراعظم کےآنے تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔

 

دریں اثنا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے 11 کان کنوں کے قتل پر نامعلوم عسکریت پسندوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

 

سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او مچھ پولیس پر بخش بگٹی کی شکایت پر نصیرآباد تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 324 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

1150846

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: