IQNA

8:46 - March 08, 2021
خبر کا کوڈ: 3509001
تہران(ایکنا) فرانس میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی لہر کے ساتھ مساجد کی بندش میں بھی تیزی آئی ہے جہاں چھ ملین مسلمان کے جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے۔

نیوز ایجنسی trtworld،‌ کے مطابق وزریر داخلہ ژرالد دارمانن نے ملک میں مساجد کی بندش میں تیزی کے حوالے سے تحفظات کا اظھار کیا ہے۔

 

امانوئل میکرون، کے اقدامات کی وجہ سے فرانس میں ۱۷ کو سیکورٹی اور  «معیاری سیکورٹی انتظامات» کو بند کردیا گیا ہے جبکہ ۸۹ مسجدوں کو انڈر واچ کردیا گیا ہے۔

 

انسانی حقوق اور مسلم تنظیموں نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سے میکرون انتخابات میں شدت پسند افراد کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

 

وزیر داخلہ اس حال میں یہ بیان دے رہا ہے جہاں پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کیا جارہا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں پر دباو میں اضافہ ہوگا۔

 

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں بقائے باہمی اور یکجتی کی کوششوں کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 

ادارہ عفو بین المل نے بھی فرانس کی حکومت کو مسلمانوں پر دباو ڈالنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

 

فرانس میں ٹیچر «ساموئل پٹی» کے بعد حکومتی سطح پر مسلمانوں پر اس قدر دباو ڈالا گیا کہ ادارہ عفو بین الملل کو کہنا پڑا: «فرانس کی حکومت جس طرح کی آذادی چاہتی ہے وہ خود اس پر عمل نہیں کررہی».

3958122

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: