IQNA

17:42 - July 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3509773
نقاب پو شوں اور کمانڈروں کی مو جودگی میں اسلحے کی نمائش کے ساتھ عسکری انداز میں مطالبہ دہرانے کا مطلب یہ تاثر دینا ہے کہ طالبان اب قوت کے زریعے بھی مطالبات منوانے پر قادر ہیں۔
گزشتہ دنوں لولو سر کے مقام پر نائب امیر طالبان جی بی و کوہستان و دیگر چند نقاب پوشوں کے ہمراہ جو ویڈیو کلپ وائرل ہوئی ہے وہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ افغانستان سے امریکہ مکمل طور پر انخلا کر چکا ہے اور اکثریتی علاقو ں پر طالبان کا قبضہ بتایا جا رہا ہے۔ زمان و مکان کے انتخاب سے یہ لگتا ہے کہ مذکورہ کمانڈر حبیب اس ویڈہو کلپ کے زریعے اگرچہ ریاستی اداروں سے مخاطب ہے اور خفیہ معاہدے پر عملدرامد کرنے کی تاکید کرتے ہوئے نظرآ رہا ہے مگر اس پیغام میں اس کے علاوہ بھی زیر لب کچھ مطالب پوشیدہ ہیں جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
 
 
اولاً یہ کہ 2019 کے خفیہ معاہدے پر عملدر آمد کے حوالے سے بات کی گئی ہے اگرچہ یہ مطالبہ ثالثین یا جرگہ کے زریعے بھی پہنچایا جاسکتا تھا مگر رسمی طریقہ کار سے ہٹ کر نقاب پو شوں اور کمانڈروں کی مو جودگی میں اسلحے کی نمائش کے ساتھ عسکری انداز میں مطالبہ دہرانے کا مطلب یہ تاثر دینا ہے کہ طالبان اب قوت کے زریعے بھی مطالبات منوانے پر قادر ہیں او ر سر زمین گلگت بلتستان میں ایک دفعہ پھر خاک اور خون کا کھیل کھیلنے کا کا تہیہ کر چکے ہیں، یہ پرامن عوام کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے اور ریاستی اداروں کی رٹ بھی زیر سوال آگئی ہے۔
 
لولوسر طالبان ویڈیو کلپ اور ممکنہ خطرات
 
دوسرا یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں افغان پایسی پر خطا ب سے امر یکہ اور طالبان دونوں مایوس نظر آرہے ہیں کیونکہ امریکہ کو افغانستان کی جنگ جیتنے کے لئے پاکستان میں اڈوں کی فراہمی جیسی سہولیات سے محروم ہونا پڑااور ساتھ ساتھ افغان طالبان کو ریاست پاکستان کی سابقہ تعاون و ہمدردی سے بھی ہاتھ دھونا پڑ گیا ہے، جس بنیاد پر شنید یہ بھی ہے کہ افغانستان میں انڈیا اپنی جڑیں مزید مضبوط کر رہا ہے اور اپنی پراکسیز کو مزید مستحکم کر رہا ہے تاکہ امریکہ جو کام ڈائریکٹ خود افغانستان میں نہ کر سکا وہ انڈیا کے زریعے اپنے مقاصد کی تکمیل یقینی بنا سکے۔ جس کا تر جیحی منصوبہ سی پیک کو ناکام بنانا ہے۔ طالبان کمانڈرز کا دیامر کی سرزمین کا انتخاب اس لئے ہو کہ سینکڑوں کلو میٹر سی پیک روٹ ضلع دیامر سے گزرتاہے جس کا غیر محفوظ ہونے کا واضح پیغام چائنہ اور پاکستان دونوں کو دیا جارہا ہو۔
 
 
تیسرا نکتہ یہ کہ اس کلپ میں اگر چہ فرقہ واریت اور بد امنی دونوں کی نفی کی گئی ہے مگر طالبان کا ماضی اس طرز عمل کے بر عکس نظر آیا ہے یہ ویڈیو کلپ اس مقا م پر بھی بنائی جا سکتی تھی جہا ں خفیہ معاہدہ ہواتھامگر لو لو سر کا انتخاب شاید اسلئے ہو کہ لولوسر اپنے دامن میں چند ایسے دلخراش دہشتگردانہ واقعات سموئے ہوئے ہے کہ جن کو ایک مکتب فکر آج تک بھلا نہیں پائے ممکن ہے کہ اس فرقے کو مزید اپنا لقمہ بنا کر اپنے مطالبات کے حل کے لئے راہ ہموار کرنے کے عزائم رکھتے ہوں۔
 
 
چوتھا یہ کی مسلم لیگ ن کے دور میں یہ خفیہ معاہدہ ہوا ہے جس کی وجہ سے طالبان گلگت بلتستان کا گوشہ اس حکومت کے لئے نرم ہونا ایک فطری عمل ہے اب چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے لہٰذا مطالبات کے نہ ماننے کا خمیازہ جی بی حکومت کو بھگتنا پڑیگا ۔ آخری نکتہ یہ کہ اہل دانش یہ بات سمجھتے ہیں کہ مسلح پیغام چی معنی دارد۔ اس ویڑیو کے وائرل ہونے کے بعد معاشرے کے ہر پرامن شخص کو اپنا وجود خطرے میں نظر آیا ہے اور ریاست پر تحفظ اور سلامتی کے انحصار پر کاری ضرب لگی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر شخص اپنے تحفظ کی راہیں تلاش کرتا ہے اور اسلحے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔اور اسلحہ مافیا کو اپنا اسلحہ فروخت کرنے کا سنہری موقع مل جاتا ہے جو کسی طور علاقے کے مفاد میں نہیں۔
غلام عباس
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: