IQNA

افغانستان اپ ڈیٹ؛
9:33 - September 15, 2021
خبر کا کوڈ: 3510231
تہران(ایکنا) افغان وزیرخارجہ کے مطابق وحشیانہ طور پر افغان اموال کو عالمی بنکوں میں امریکہ نے روک دیا ہے اور طالبان پر دباو میں اضافہ ہوا ہے جبکہ قطر نے افغانستان سے مذاکرات پر تاکید کی ہے۔

ایکنا نیوز نے الجزیرہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کابل میں افغان وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس ہوئی ہے جسمیں عالمی اداروں سے امداد کی درخواست کی گیی ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری پر کوئی مشکل نہیں اور انسانی حقوق کی بنیاد پر امداد کو سیاست کی نذر نہیں کرنی چاہیے۔

 

متکی نے امریکہ سمیت تمام ممالک سے تعلقات پر آمادگی کا اعلان کیا۔

 

انکا کہنا تھا کہ جوممالک افغانستان سے تعلقات نہیں بنا رہے وہ غیر انسانی کام کررہے ہیں ہم نے کہا ہے کہ اس سرزمین سے کسی کے خلاف کام نہیں ہوگا۔

 

انہوں نے ملک چھوڑ کر جانے والوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائے اب یہاں امن ہوگا۔

 

قطر نے افغانستان کو تنہا کرنے کی پالیسی نادرست قرار دے دی

قطری وزیراعظم کے ڈپٹی شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے افغانستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

شیخ محمد بن عبدالرحمان نے فرنچ ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہم اس وجہ سے افغانستان کو تنہا نہیں کرسکتے کہ یہاں پر طالبان کو کنڑول ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مشکلات کو حل مذاکرات اور گفتگو میں پوشیدہ ہے،

 

انکا کہنا تھا کہ انکے ماہرین نے کابل ائیرپورٹ کو فعال کیا تاہم سیکورٹی امور پر ہم آہنگی کے بعد فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

 

شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے فلسطینی عوام کے حقوق پر بھی تاکید کی۔

 

دنیا سے رابطے کی کوشش/ انسان دوستانہ امداد کی درخواست

جنرل سیکریٹری اقوام متحدہ کی امداد کے لیے درخواست

گوٹریس نے انسانی حقوق، دہشت گردی سمیت تمام امور پر طالبان سے مذاکرات کی درخواست کی اور کہا کہ جنیوا کانفرنس میں اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ افغانستان کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی جائے۔

آنتونیو گوترش، دبیر کل سازمان ملل متحد روز دوشنبه خواستار مذاکره با طالبان در همه جنبه‌ها، از جمله تروریسم و ​​حقوق بشر شد.

 

کابل میں چینی سفیر نے بھی کہا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے چین پندرہ ملین ڈالر افغانستان کو امداد دے گا۔

 

بلینکن سینٹ میں

امریکی وزیر خارجہ نے سینٹ کو امریکی انخلا کے حوالے سے بریفنگ دی، انکا کہنا تھا کہ جوبائیڈن کے پاس دو آپشن تھے ایک جنگ کا خاتمہ اور دوسرا آپشن جنگ کو تیز کرنا۔

 

 

وزیر امور خارجه نے کہا کہ امید ہے کہ طالبان وعدوں پر عمل کرتے ہوئے دہشت گردی سے مقابلہ اور غیرملکیوں کے انخلا میں تعاون کرے گا۔

 

انکا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو قبول کرنے کا دارومدار ان کے رفتار اور عمل پر منحصر ہے۔

 

ترکمن  وزیر خارجہ سے گفتگو

ڈپٹی وزیر خارجہ مولوی عبدالسلام حنفی نے ویڈیو کانفرنس کے زریعے سے ترکمانستان کے ڈپٹی وزیر خاجہ سے گفتگو کی۔

 

افغان ترجمان محمد نعیم کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے حوالے سے سرحدوں کو کھولنے کے مسئلے کا جایزہ لیا گیا۔

 

افغان ڈپٹی وزیر خارجہ کے مطابق ترکمانستان نئی حکومت سے تعلقات میں اضافے کا خواہش مند ہے اور جلد انسانی حقوق کی بنیاد پر امداد بھی ارسال کی جائے گی۔/

3997599

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: