IQNA

7:44 - January 18, 2022
خبر کا کوڈ: 3511133
ٹیکساس کنیسا ڈرامہ کا مقصد عافیہ صدیقی کیخلاف نئی امریکی سازش تو نہیں ؟

امریکی ریاست ٹیگزاس کی یہودی عبادت گاہ میں حبسِ بے جا میں رکھے گئے تمام 4 افراد کو بازیاب کرواکر یرغمال بنانے والے مسلح شخص کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

امریکی فورسز نے مسلح شخص کے خلاف 10 گھنٹوں پر محیط اعصاب شکن جنگ لڑی۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلح شخص نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

 

یہودی عبادت گاہ کا انتخاب۔

امریکی ریاست ٹیگزاس کے ایک غیر معروف قصبے کالیوِل جس کی کل آبادی 22 ہزار افراد پر مشتمل ہے،اس میں واقع ایک چھوٹی سی یہودی عبادت گاہ یا کنیسا میں جس سے جملہ 157خاندان وابستہ ہیں اور اس کا بندوبست اصلاح پسند یہودی اتحاد نامی ایک تنظیم چلاتی ہے۔ہفتہ 15جنوری 2022کی صبح مقامی وقت کے مطابق لگ بھگ 10بجے یعنی پاکستانی وقت کے مطابق شام 8 بجے بیت اسرائیل نامی اس کنیسا میں معمول کے مطابق یوم السبت کی عبادت شروع ہوئی۔

 

اس وقت کنیسا کے اندر کتنے لوگ موجود تھے، اس بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان رسومات کی ادائیگی براہ راست نشریات کے ذریعے تقریباً 8ہزار لوگ دیکھ رہے تھے کہ قریب 11بجے ایک نامعلوم مسلح فرد کنیسا میں داخل ہوا، گھر بیٹھے یہ نشریات دیکھنے والوں کے مطابق کنیسا میں نصب کیمروں کی آنکھ سے انہوں نے غیر معمولی حرکات و سکنات دیکھیں اور انہوں نے ایک شخص کو غیر واضح آواز میں بے ربط جملے بولتے سنا، انہوں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ میں کوئی عادی مجرم نہیں ہوں، عافیہ میری بہن ہے، ایک شاہد نے بتایا کہ اس کا لہجہ عاجزانہ تھا اور وہ چیخ چلا رہا تھا۔

 

سیکورٹی فورسز کی کارروائی۔

اس واقع کی اطلاع ملتے ہی امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے اور مقامی پولیس کی مدد کے لئے انسداد دہشت گردی، خصوصی تربیت یافتہ ریاستی اور وفاقی دستے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جائے وقوعہ پر پہنچائے گئے، تربیت یافتہ مذاکرات کاروں نے یرغمال بنانے والے شخص سے رابطہ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ لب لہجہ سے مغربی یارک شائر، انگلستان، برطانیہ کا باشندہ معلوم ہوتا ہے، وہ اکیلا ہے، مسلح ہے جبکہ ایک ذریعے کے مطابق اس کے پاس دھماکہ خیز مواد بھی ہو سکتا ہے جبکہ یرغمالیوں کی کل تعداد چار ہے، 5 گھنٹے مذاکرات کے بعد ایک یرغمالی کو جو کہ بیمار تھا ملزم نے رہا کر دیا۔

 

اس دوران ملزم کی فرمائش پر یرغمال یہودی عالم یا رابی نے اس کی بات نیویارک کے ایک کنیسا کے رابی سے بھی کروائی، جس سے بات کرتے ہوئے ملزم نے کہا کہ عافیہ بے گناہ ہے، اسے رہا کیا جائے۔ 5 گھنٹے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 9بج کر 33 منٹ پر تمام یرغمالیوں کو بہ حفاظت زندہ رہا کروا لیا گیا، علاقہ مکینوں نے اس سے قبل زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں جس سے ان کے مکانات کی کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے لرز گئے تاہم پولیس کی مطابق یہ دھماکے پولیس نے کئے تھے، بتایا گیا کہ ملزم ہلاک ہو چکا اور اس کی شناخت ملک فیصل اکرم نامی برطانوی شہری کی حیثیت سے کی گئی۔

 

واقعہ سے متعلق اہم سوالات۔

اب تک سامنے آنے والی معلومات نے اس واقعہ پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، ملزم کب، کیسے برطانیہ سے امریکہ پہنچا، اس نے اسلحہ کہاں سے اور کس نوعیت کا حاصل کیا، ان نے ٹیکساس کے ایک غیر معروف قصبے کے ایک یہودی کنیسا ہی کا انتخاب کیوں کیا، جہاں محض چار افراد ہی موجود تھے اور وہ نیویارک کے یہودی رابی ہی سے بات کیوں کرنا چاہتا تھا؟ پولیس نے ملزم کی جانب سے کسی مزاحمت یا برآمد ہونے والے ہتھیاروں کی بابت بھی کچھ نہیں بتایا۔

 

ایک اور بات یہ کہ واقعہ کی اطلاع ملنے کے محض ایک گھنٹے بعد ہی ایک اسرائیلی جریدے یروشلم پوسٹ نے یہ دعویٰ کر دیا کی ملزم عافیہ صدیقی کا بھائی محمد صدیقی ہے جو بعد ازاں غلط ثابت ہوا، محمد صدیقی سمیت عافیہ کے خاندان اور ان کی امریکہ میں وکیل نے واقعے کی مذمت کردی۔

 

مزید برآں سوشل میڈیا پر براہ راست نشر ہونے والی ویڈیو اس واقع کی ابتدا ء سے تین گھنٹے بعد یعنی گیارہ بجے سے 2بجے تک بلا روک ٹوک چلتی رہی، اور 2بجے اسے بند کیا گیا اور بعد ازاں اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مکمل طور پر غائب کر دیا گیا، پولیس کے مطابق انہوں نے یہ ویڈیو دیکھی جس سے آپریشن میں مدد ملی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ ویڈیو دیکھنے کے تقریباً تمام ہی دعویدار یہودی تھے۔

 

اس واقعے کی تحقیقات میں آگے چل کر کیا موڑ آتے اور اس کے کس کس پر کیا اثرات پڑتے ہیں، یہ کہنا ابھی مشکل ہے، ملزم کو ہلاک کردیا گیا ہے لہٰذا یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ اس کے عزائم کیا تھے تاہم اس واقعہ سے جہاں ایک طرف عافیہ صدیقی کا کیس پھر سے عالمی منظر نامے پر اجاگر ہوا ہے، وہیں عافیہ کو دہشت گردی سے جوڑنے، امریکہ میں طاقتور یہودی نواز جذبات میں مزید شدت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے جیسے اہداف بھی حاصل کر لئے گئے ہیں، اس لئے اب تک موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات نے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا ہے، اور بادی النظر میں یہ ڈرامہ کسی بڑی منصوبہ بندی کا نکتہ آغاز یا دہشت گردی کے عفریت کو زندہ رکھ کر امریکی عوام کو یرغمال بنانے کی ایک سازش نظر آتا ہے۔

 

عافیہ صدیقی کا اغواء۔

اس واقعہ سے جڑی عافیہ صدیقی کو کراچی سے اغوا کر کے بگرام کے امریکی عقوبت خانے میں حبس بے جا میں رکھنے، راز فاش ہونے پر امریکی اہلکار سے بندوق چھین کر اقدام قتل جیسے لغو اور خود ساختہ الزامات پر بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی میں ایک پاکستانی شہری کو مبینہ جرم کے جائے وقوع والے ملک سے امریکہ لے جا کر ایک کینگروکورٹ کے ذریعے ۸۶ سال عمر قید کی سزا سنانے تک کی تمام تر سازش، مکر و فریب، پراپگنڈہ اور مظالم کی یاد تازہ ہو گئی، تاہم امریکی و بین الاقوامی میڈیا نے اس واقعے کے پس منظر میں کل سے جاری کوریج میں کہیں بھی عافیہ کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی اور صریح ظلم کی کوئی جھلک یا فرضی جرم اور بغیر ثبوت اس قدر ظالمانہ سزا پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ نہ ہی عافیہ کے کراچی سے اغوا کے وقت محض ۶ ماہ عمر کے تاحال لاپتہ بچے کے حوالے سے کوئی ذکر کیا گیاجس سے امریکی میڈیا کی جانب داری عیاں ہوتی ہے۔

 

امریکہ میں پاکستانی قیدی عافیہ صدیقی

عافیہ صدیقی کی امریکا کو حوالگی۔

عافیہ صدیقی کے کراچی سے مبینہ اغوا اور امریکی خفیہ اداروں کو حوالگی کے پس منظر کی المناک کہانی بھی نام نہاد مغربی جمہوری روایات، مساوات اور انسانی حقوق کے علم برداروں کے منہ سے نقاب اتارتی ہے، عافیہ کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بھونڈی کہانی کا آغاز ان کے سابق شوہر کے بینک اکاؤنٹ سے پاکستان کے ایک نجی بینک اکاؤنٹ میں آٹھ ہزار ڈالر کی رقم بھجنے سے ہوتا ہے، پھر 2002 میں ان کے سابق شوہر پر الزام لگتا ہے کہ اس نے رات میں دیکھنے والی دوربین، بلٹ پروف جیکٹ اور کچھ دوسرا سامان خریدا جو دہشت گردی میں استعمال ہو سکتا ہے، سابق شوہر نے ایف بی آئی کو بتایا کہ اس نے یہ آلات شکار کے لئے خریدے، عافیہ کا سابق شوہر تو پاکستان منتقل ہو کر بے فکری سے نجی پریکٹس میں مشغول ہوجاتا ہے، مگر عافیہ صدیقی امریکہ کو انتہائی مطلوب دہشت گرد افراد کی فہرست میں شامل پہلی خاتون بن جاتی ہے۔

 

عافیہ پر دوسرا الزام۔

اس پر دوسرا الزام سال 2001میں ایک افریقی ملک لائبریا میں 19ملین ڈالر مالیت ہیروں کے لین دین کے ذریعے القاعدہ کی مالی معاونت کا لگایا گیا، ہیروں کے لین دین میں ملوث خاتون کے بارے میں ابتدائی معلومات میں بتایا جاتا ہے، کہ وہ طویل قامت، سرتا پیر سیاہ برقعے میں لپٹی، نقاب پوش، مضبوط جسم، عرب نژاد لبنانی شہری ہے، جس کا نام فیریل شاہین بتایا جاتا تھا، یہ خاتون جس کی لائبریا میں موجود القاعدہ کے ممبران میں بڑی دہشت تھی، لائبریا کے دارالحکومت منروویا میں امریکی جیل سے پر اسرار طور پر فرار ٹیلر نامی ایک مجرم سے ہیرے خرید کربلجیم لاکر بیچتی ہے۔ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کی جانب سے عافیہ کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان کے امریکی ڈرائیونگ لائسنس سے اٹھائی ایک غیر واضح تصویر شائع کرنے کے بعد سال 2004 میں تو مبینہ طور پر مفرور امریکی مجرم اور لائبریا میں چوری کے ہیروں کے تاجر ٹیلر کا ایک ملازم اسے پہچان لیتا ہے۔ یوں فیرل شاہین نامی لبنانی کو پاکستانی عافیہ صدیقی سے بدل دیا جاتا۔

 

ان پر تیسرے الزام کا تعلق ان کے زمانہ طالب علمی میں سال 1990سے 1992کے دوران ان کی یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا ایم آئی ٹی جو کہ امریکی اعلی تعلیمی اداروں میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے، میں مسلمان طلبہ کی غیر سرکاری تنظیم مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سے وابستگی کے دور سے ہے، مبینہ طور پر اس تنظیم کے کچھ افراد القاعدہ کے ساتھ ملوث پائے گئے، جن کا 1993کے ورلڈ ٹریڈسینٹر دھماکوں میں بھی کردار تھا۔

 

کہا جاتا ہے کہ عافیہ ان سالوں میں مذہبی اجتماعات میں پیش پیش ہوتی، تقاریر کرتی اور خطوط و جرائد کے ذریعے چندے کی اپیل کرتی، جو کہ غالباً الکفا نامی اس تنظیم کو دیا جا رہا تھا، جس کا امریکہ میں مرکز نیویارک میں تھا، جو امریکہ میں القاعدہ سرگرمیوں کا محور تھا، تاہم امریکی تحقیقاتی ادارے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں عافیہ کی کسی آڈیو، وڈیو ریکارڈنگ یا تحریر میں کسی پُرتشدد کاروائی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ زیادہ تر دینی حوالے اور فلسطین، بوسنیا یا افغانستان کے مسلمانوں کی مدد کے لئے کہا یا لکھا گیا۔

 

نئی سازش۔

یہ ہیں وہ الزامات اور شواہد جن کی بنا پر ایک انتہائی ذہین، غیر معمولی صلاحیت کی مالک اور شاندار تعلیمی ریکارڈ کی حامل پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کو انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیااور یہ سب ان کے اپنے شوہر سے طلاق لے کر اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان منتقل ہونے کے بعد کیا گیا، انہیں 28مارچ 2003 کو کراچی سے اغوا کیا گیا، اگلے دن پاکستانی اخبارات میں ان کی گمشدگی یا مبینہ حراست کی خبریں شائع ہوئیں، اسی دن انہیں مبینہ طور پر سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، 21اپریل 2003کو امریکی ٹی وی چینل این بی سی نے دعویٰ کیا کہ عافیہ صدیقی کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا ہے مگر ایک دن بعد امریکی حکام اپنے اس دعوے سے دستبردار ہوگئے۔

 

یہی رویہ پاکستانی حکام نے اپنایا، پہلے گرفتاری کی تصدیق پھر تردید کر دی، خاندان والوں کو خاموش رہنے کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے بعد ۶ سال تک عافیہ لاپتہ رہی، 2008 میں انسانی حقوق کے ایک جریدے نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں لاپتہ افراد کے بارے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ لاپتہ عافیہ ممکنہ طور پر امریکی حراست میں ہے۔

 

8 جولائی 2008کو افغانستان میں افغانستان کے دورے کے بعد، نو مسلم برطانوی صحافی، ایوان رڈلی نے انکشاف کیا کہ بگرام کے امریکی عقوبت خانے میں موجود آہ و فغاں کرنے والی خاتون قیدی نمبر ۶۵۰ دراصل لاپتہ عافیہ ہے، امریکی حکام نے چار دن بعد اس کی تردید کی، مگر پھر ۳۱ جولائی کو امریکہ میں مقیم عافیہ کے بھائی محمد صدیقی کو اطلاع دی گئی کہ عافیہ ہماری حراست میں ہے۔

 

چار اگست 2008کو اس کی افغانستان میں باقاعدہ گرفتاری ظاہر کی گئی، اگلے دن اسے گولی مار کر کہانی بنائی گئی کہ وہ امریکی اہلکار سے بندوق چھین رہی تھی، اور اسی جرم ناکردہ کی پاداش میں اسے امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں دو سال بعد 2010 میں اسے ایک امریکی جج نے 86برس قید کی سزا سنا دی، جہاں وہ آج تک قید کی صعوبتیں اٹھا رہی ہیں۔

 

اغوا سے آج دن تک عافیہ، اس کے خاندان اور بچوں پر جو کچھ بیتا وہ انتہائی اندوہ ناک ہے، اور اس قصے کے ہر موڑ پر آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدار امریکہ کے مکر و فریب، ظلم و جبر، جنگی جرائم، حقوق انسانی کی پامالی اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ایک داستان رقم ہے۔

بشکریہ گلوبل نیوز

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: