IQNA

عمراں خان

یہ اپنا پیسہ بچانے کیلئے اسرائیل کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں

20:22 - July 05, 2022
خبر کا کوڈ: 3512240
پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی پر امریکا خوش نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ حکم ملے اور پاکستان ان کی جنگ میں شامل ہو جائے.

ایکنا انٹرنیشنل ڈیسک - ڈان نیوز کے مطابق سابق وزیر اعظم و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو میں مجبور ہوکر بولوں گا اور پھر سب کچھ قوم کے سامنے رکھوں گا، میں صرف اس لیے چپ ہوں کہ میرے ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے کئی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر وہ ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینا چاہتا تھا، جس کا مقصد عوام کی بہتری ہو، پاکستان کا جو جمہوری عمل تھا وہ اب رک گیا ہے، جس سے ملک کا نقصان ہوا ہے، مارشل لا آیا اس کے بعد جمہوری نظام آیا اور اب پھر سے وہ عمل رک گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'پہلے اور اب جو کچھ ہوا ہے، اس میں ایک چیز یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی پر امریکا خوش نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ حکم ملے اور پاکستان ان کی جنگ میں شامل ہو جائے اور پاکستان 80 ہزار جانیں ان کے لیے قربان کر دے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پہلے نواز شریف اور دیگر نے ملک سے چوری کی اور پرویز مشرف سے این آر او لیا اور پھر یہ 10 سال حکومت میں آئے اور پھر سے چوری کی، ان کو ہمارے اوپر مسلط کرنے کا مقصد این آر او ٹو لینا تھا'۔

'یہ اپنا پیسہ بچانے کیلئے اسرائیل کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں'

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ قوم کو یہ کہہ کر آئے تھے کہ ہم مہنگائی کم کریں گے، انہوں نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور آج ساری قوم جانتی ہے کہ کبھی بھی پاکستان میں اتنے تھوڑے وقت میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 'ہماری حکومت میں معیشت اچھی سمت میں جا رہی تھی اور تمام شعبوں میں اچھی ترقی ہو رہی تھی تو اچانک ملک میں حکومت گرانے کی سازش ہوئی جس پر قوم نے ردعمل دیا، جس کا مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح قوم سڑکوں پر نکلے گی'۔

عمران خان نے کہا کہ 'موجودہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ غدار ہیں جن کا نظریہ فقط پیسہ ہے جو بیرون ممالک رکھا ہوا ہے اور یہ لوگ اپنا پیسہ بچانے کے لیے اسرائیل کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں اور ان کو موقع ملے تو کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز کر کے بھارت سے دوستی کرلیں اور پیسے کے خاطر پھر کسی امریکی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں اور روس کا تیل بھی نہیں لیں گے کہ امریکا ناراض نہ ہو جائے'۔

'صحافیوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں'

صحافی ایاز امیر پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ان کو سب جانتے ہیں کہ ان کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اور اس کو لفافہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ ایک نڈر اور پڑھا لکھا انسان ہے اور اس عمر میں ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا یہ پوری قوم کے لیے شرم ناک واقعہ ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جو ٹی وی چینل چوروں کی حمایت کرتے ہیں ان کی ریٹنگ سب کے سامنے ہے جبکہ جو حق و سچ کی بات کرتے ہیں ان کی ریٹنگ سب سے زیادہ ہے، اسی طرح صحافی عمران ریاض کو لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ وہ حق اور سچ کی بات کرتا ہے اور یوٹیوب پر ایسے ہی لوگ ان کو فالو نہیں کرتے'۔

عمران خان نے کہا کہ 'صحافی ارشد شریف کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں ہے، اس کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے مگر اس پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور صابر شاکر بھی ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے اور صحافی جمیل فاروقی کے بھی پیچھے لگے ہوئے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'معید پیرزادہ سمیت متعدد صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے سرگرم رکن ارسلان کے گھر میں چلے گئے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا'۔

'اس لیے چپ ہوں کہ ملک کو نقصان نہ پہنچے'

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ 'میں یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی اس لیے چپ ہوں کہ صرف میرے ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن میں نے ایک وڈیو ریکارڈ کی ہوئی ہے اور وہ محفوظ جگہ پر رکھی ہے، اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو وہ بھی عوام کو پتا چلے کہ کس نے کیا کیا'۔

عمران خان نے کہا کہ 'اگر اسی طرح ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو میں مجبور ہو کر بولوں گا اور پھر سب کچھ قوم کے سامنے رکھوں گا کہ کیا کچھ ہوا'۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* :