IQNA

15:45 - October 28, 2020
خبر کا کوڈ: 3508415
تہران(ایکنا) تجزیہ کاروں کے مطابق فلسطین سے خیانت اور سازش کہ وجہ سے فرانس صدر کو جرات ملی کہ وہ رسول عظیم‌الشأن(ص) کی توہین کریں تاکہ فرانس کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹا سکے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی رسول اکرم(ص) کی شان میں توہین کا عالمی سطح پر اعتراضات سامنے آئے ہِیں. ماہرین کے مطابق رسول اسلام(ص) کی شان میں گستاخی سے فرانس میں اسلامو فوبیا میں شدت آگئی ہے جس سے مسلمانوں کی توہین زیادہ ہوسکتی ہے۔

 

ان مسائل کے پچھے کیا مقاصد چھپے ہوسکتے ہیں اس سے ہٹ کر یہ واضح ہے کہ اگر بعض عرب ممالک کی خیانت نہ ہوتی تو فرانس کے صدر کو اس طرح کی جرات نہ ہوتی۔

 

بعض اسلامی ممالک امریکی اور صیھونی غلامی میں چشم بستہ انکی خواہشات پر عمل پیرا ہیں حالانکہ ان ممالک کے عوام قطعا اس سے راضی نہیں، یہ ممالک حتی زبانی حد تک توہین رسول اکرم(ص) کی مذمت نہیں کرتے حالانکہ یہاں کے عوام سراپا اس حوالے سے احتجاج کررہے ہیں۔

 

فرانس کے اندر بھی مسلم کیمونٹی کے مختلف ادارے اس حوالے سے احتجاج کررہے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ اس طرح سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوگا۔

 

عالمی سطح پر اسلامی تعاون تنظیم کے علاوہ ایران، لبنان، کویت، شام، ترکی، پاکستان، الازهر مصر توہین رسالت کی مذمت کرچکے ہیں جبکہ ترک صدر «رجب طیب اردوغان» اور فرنچ صدر میں زاتی توہین تک نوبت آن پہنچی ہے اور ترک صدر نے دماغی معاینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر بھی فرانس کے خلاف پابندی اور بائیکاٹ کے ھیش ٹیگ چل رہے ہیں۔

 

فرنچ مصنوعات کے بائیکاٹ سے یقینا فرانس کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے جو پہلے ہی سے کورونا کی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔

 

فرنچ صدر اقتصادی مشکلات اور سیاسی پیچدگیوں سے نکلنے کے لیے اسلام فوبیا کا ہتھیار استعمال کررہا ہے اور اس کی آڑ میں بحرانوں پر قابو پانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے تاکہ اس طرح سے سیاسی پوزیشن بہتر بنا سکے۔/

3931487

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: