IQNA

7:41 - December 21, 2020
خبر کا کوڈ: 3508654
تہران(ایکنا) انڈین نژاد مترجم اور حافظ عبدالله یوسف کا سال ۱۹۳۴ قرآنی ترجمہ اب بھی آب و تاب سے موجود ہے۔

انڈین نژاد مترجم اور حافظ عبدالله یوسف علی  ۱۴ اپریل ۱۸۷۲ کو بمبئی میں پیدا ہوئے جو اس وقت برطانیہ میں مقیم ہے، برصغیر پر ہندوستانی راج میں انکا والد پولیس اینٹلی جنس میں تھا، انہوں نے قرآن حفظ کیا اور تفیسر و تاریخ سے آشنائی حاصل کی۔

 

«ویلسن» اسکول بمبئی میں عربی اور انگریزی سیکھنے کے بعد  انگریزی میں ماسٹرز کیا اور  «سنٹ جان» یونیورسٹی کیمبرج میں اعلی تعلیمات کے لیے نکلے۔

 

برطانیہ سے اعلی تعلیمات کے بعد سال ۱۸۹۵ کو ہندوستان میں لوٹے اور اعلی پوسٹوں پر خدمات انجام دی مگر سال ۱۹۱۴ کو دوبارہ لندن لوٹے اور یہی پر سکونت پذیر ہوئے۔

 

لندن میں وہ معروف مسجد «شاه جهان» کے متولی بنے جو ووکینگ(Woking)  میں واقع ہے یہاں پر وہ مطالعات مشرق مرکز میں لیکچر دیتے رہیں۔

 

عبدالله یوسف علی ایک بار پھر ہندوستان آئے تاکہ اقبال لاهوری سے مل سکے ۔ لاہور اسلامی کالج کے وہ ڈآئریکٹر بنے جسمیں اقبال کی کوشش شامل تھی۔

 

پھر وہ پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ بنے اور اس دوران انہوں نے  «اسلامی تربیت کے نمونے»، «اصول اسلام»، «تربیت اخلاقی؛ مقاصد اور طریقے»، «شخصیت انسان اور اسلام» اور «رسالت اسلام» کتابیں لکھنے کے علاوہ قرآن کا ترجمہ کیا جسمیں تفسیر بھی شامل تھا۔

«عبدالله یوسف علی» کا شاہکار قرآنی ترجمہ

سال ۱۹۳۴ کو پہلی بار شایع اور اور پھر سال ۱۹۳۸ کو تین بار یہ دوبارہ شائع ہوا، سات سال کی کاوشوں سے لکھنے والا یہ ترجمہ اب بھی آب و تاب سے موجود ہے۔

 

عبدالله یوسف علی ترجمہ کے مقدمے میں لکھتا ہے: «ہر مسلمان چھوٹے بڑے اور مرد و خواتین پر لازم ہے کہ وہ قرآن پڑھے اور سمجھنے کی کوشش کریں اور جو جس حد تک سمجھے اسے دوسروں تک منتقل کریں اور لذت و سکون حاصل کرنے میں انہیں شریک کریں».

«عبدالله یوسف علی» کا شاہکار قرآنی ترجمہ

عبدالله یوسف علی  سال ۱۹۳۸ نے مختلف اسلامی اور یورپی ممالک کا سفر کیا تاکہ اپنے ترجمہ شدہ قرآن کو اسلامی دانشوروں تک پہنچا سکے اور  سال ۱۹۴۷ لندن لوٹے، کہا جاتا ہے کہ باقی عمر انہوں نے غربت میں گذاری اور سال ۱۹۵۳ کو ہاٹ اٹیک کے نتیجے میں لندن کے شہر«فولهام» میں دنیا سے کوچ کرگیے۔/

3941329

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: