IQNA

20:49 - July 25, 2021
خبر کا کوڈ: 3509872
انبیاء کرام ؓ، اصحاب ؓ رسولﷺ، ازواج مطہراتؓ اور اہل بیت اطہار کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنا ایک فریضہ ہے.
ایکنا نیوز کے مطابق متحدہ علماء بورڈ اور پاکستان علماء کونسل نے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کیلئے پیغام پاکستان کی روشنی میں ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کو پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کا نام دیا گیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیراعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کیلئے متحدہ علماء بورڈ کا وفد 27 جولائی سے راولپنڈی سے دورے کا آغاز کر رہا ہے، پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو ہر سطح پر یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ متحدہ علماء بورڈ نے محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کیلئے 14 نکات پر مشتمل ضابطہ اخلاق کو پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کا نام دیتے ہوئے اسکے ملک بھر میں نفاذ کیلئے 27 جولائی سے پاکستان بھر کے دورے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 
فرقہ وارانہ منافرت، اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت اسلامیہ کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض اور قومی و ملی جرم ہے، تمام مسالک کے علماء و مشائخ اور مفتیان پاکستان انتہاء پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مکمل مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے اداروں کی ملک و قوم کیلئے قربانیوں اور جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے متحدہ علماء بورڈ کے آفس سیرت اکیڈمی قرآن کمپلیکس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ محمد حسین اکبر، علامہ زبیر عابد، مولانا اسداللہ فاروق، محمد اسلم صدیقی سمیت علماء کرام کی بڑی تعداد موجود تھی، اس موقع پر میڈیا کو 14 نکات پر مشتمل پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کی کاپیاں بھی جاری کی گئیں۔
 
حافظ طاہر محمود اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ پیغام پاکستان مشترکہ دستاویز ہے، جس پر تمام مسالک کے علماء و مشائخ اور مفتیان پاکستان کے دستخط ہیں، متحدہ علماء بورڈ نے محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کیلئے 14 نکات پر مشتمل ضابطہ اخلاق کو پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کا نام دیا ہے، جسے پورے ملک میں لیجانے کیلئے 27 جولائی کو راولپنڈی سے متحدہ علماء بورڈ کے وفود کی شکل میں دوروں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کے نکات میں شامل ہیں کہ دینی شعائر اور نعروں کی نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کیلئے استعمال قرآن وسنت کی رو سے قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ علماء و مشائخ اور مفتیان عظائم کا فریضہ ہے کہ درست اور غلط نظریات میں امتیاز کرنے کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دیں جبکہ کسی کو کافر قرار دینا (تکفیر) ریاست کا دائرہ اختیار ہے، جو ریاست شریعت اسلامیہ کی رو سے طے کرے گی، پاکستان اللہ تعالیٰ کی مقدس امانت ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کیلئے اس کا استعمال جائز نہیں اور ایسے عناصر سے ہم اعلان برات کرتے ہیں۔
 
ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت میں شرکت یا اس کی کسی بھی طرح مدد یاحمایت کرنا کسی بھی صورت شرعی اور قانونی طور پر درست نہیں ہے، انبیاء کرام ؓ، اصحاب ؓ رسولﷺ، ازواج مطہراتؓ اور اہل بیت اطہارؓ کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنا ایک فریضہ ہے اور جو شخص ان مقدسات کی توہین و تکفیر کرے گا، تمام مکاتب فکر اس سے برات کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں سوشل میڈیا پر نفرتیں پھیلانے والے مواد کو روکنے کیلئے قانون حرکت میں آئے گا۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی چوتھی لہر بھی سامنے آچکی ہے، اس لئے محرم الحرام میں اجتماعات کے دوران حکومت کے طے کردہ ایس او پیز کا بھی خیال رکھنا چاہیئے۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: