IQNA

7:50 - October 24, 2021
خبر کا کوڈ: 3510496
تہران(ایکنا) حجت الاسلام والمسلمین شهریاری: علما آلہ کار حکومتوں کی بجائے رسول الله(ص) کی پیروی کریں۔

ایکنا نیوز کے مطابق گذشتہ روز بینتیسویں بین الاقوامی وحدت کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تقریب فورم کے جنرل سیکریٹری حجت‌الاسلام والمسلمین حمید شهریاری نے عید میلاد کی مبارکبادی پیش کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر ڈاکٹر قالیباف اور دیگر مہمانوں علما کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کانفرنس میں شرکت کی اور کہا: کانفرنس «اتحاد اسلامی، امن اور اسلامی دنیا میں تفرقے سے دوری» آج اختتام پذیر ہورہی ہے۔

 

شهریاری کا کہنا تھا: ہفتہ وحدت پر ہمارے کافی غیرملکی مہمان تھے تاہم کورونا کی وجہ سے اس سال بھی کانفرنس میں شریک مہمانوں کے علاوہ ویبنار سے بھی علما کے نظریوں سے استفادہ کیا گیا۔

 

انکا کہنا تھا کہ افتتاحی تقریب صدر مملکت کے ساتھ منعقد ہوئی تاہم ایس او پیز کی وجہ سے صرف پتنتیس مہمانوں کی دعوت دی گیی جہاں دس علما نے خطابات کیے۔

 

 تقریب فورم کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ مہمانوں کے ساتھ وحدت پر خصوصی نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا اور غیرملکی مہمان علما امام خمینی  (ره) کے مزار پر حاضری کے علاوہ دیگر سیاحتی مقامات پربھی گیے۔

 

 

شهریاری کا کہنا تھا کہ اس سال ۵۰ غیرملکی مہمان کانفرنس میں شریک تھے جبکہ دنیا کے ۳۹ ممالک سے ۵۱۴ مقالات ہمیں موصول ہوئے جبکہ سیکڑوں علما سے ویبناروں میں استفادہ کیا گیا۔

 

انکا کہنا تھا کہ مرحوم آیت‌الله تسخیری کے آثار اور وحدت سے متعلق متعدد میگزین اور کتابیں شائع کی گیی ہیں جو فارسی کے علاوہ انگریزی اور عربی میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔

 

وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب؛

انہوں نے اسلامی دنیا میں وحدت کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: آج دنیا جنگ و جدل کے دور سے گزر رہی ہے بالخصوص اسلامی دنیا اور انہیں مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وحدت کانفرنس کا سلسلہ شروع کیا گیاہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ اسلام کا پہلا پیغام مومنین میں امن و دوستی ہے تاہم عالم اسلام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مشکلات و تجاویز کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 

۱: استکباری طاقتیں امریکی سربراہی میں ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ جنگ اور تفرقے سے اسلامی دنیا میں مداخلت کرتی آرہی ہیں اور یہی چیز قتل و غارت کی اصل وجہ ہے۔

۲: بعض اسلامی ممالک میں حکمران طبقہ آلہ کار کے طور پر مسلط شدہ ہیں جو ظالموں کی موجودگی کے اسباب فراہم کرتے ہیں اور بعض علما بھی ذاتی مفادات کے لیے ان کے ایجنٹ بن چکے ہیں۔

۳: بعض فروعی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر دشمن کو موقع دیا جارہا ہے۔

۴.: بعض فرقوں کی جہالت یا حماقت کی وجہ سے توہین کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور کچھ پھر تکفیر سے قتل و غارت کو راہ حل دکھاتے ہیں۔

۵: جمہوری حکومتوں کے فقدان کی وجہ سے بعض ممالک میں خاندانوں نے عوام کے حقوق کو پامال کر رکھا ہے۔

۶.  صدر اسلام کی طرح جاہلانہ انداز میں قومی تعصبات کی فضا قایم کی جاتی ہے۔

۷. بعض ممالک میں شدت پسندانہ تنظیمیں قایم کی جاتی ہیں۔

۸. اسلامی ممالک میں بیجا رقابت کی فضا قایم کرنا۔

 

تقریب فورم کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بعض تجاویز پیش کی جاتی ہیں:

 

۱: عالمی استکبار کے مقابل مزاحمت ایجاد کرانا اور یہ قرآنی حکم ہے کہ خود کو طاقتور بنائے اور ہم نے ٹھونسی کی گیی جنگ سے اس کامیاب تجربے کا آزمایا ہے اور داعش سے جنگ اس کی دلیل ہے۔

۲. علما کو ظالم آلہ کار حکومتوں کی پیروی نہیں کرنی چاہیے اور رسول گرامی اسلام کی پیروی کرکے امربالمعروف کرنا ہوگا۔

۳.  اجتھاد کو تمام مسالک میں پیدا کرنا ہوگا اور فروعی اختلافات سے دوری کے ساتھ ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔

۴. جہلا کی تربیت اور آگاہی عام کرنا علما کی ذمہ داری ہے۔

۵. اسلامی ممالک کے عوام اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔

۶. نسل پرستی، قومی پرستی اور فرقہ پرستی سے دوری اختیار کیا جائے۔

۷. متحارب گروپ مذاکرات اور بات چیت سے مسائل کرنے کی ضرورت ہے۔

۸. اسلامی ممالک میں رقابت اچھی چیز ہے مگر احسن طریقے اور تعمیری کردار سے اس کو آگے بڑھایا جائے۔

 

حجت‌الاسلام والمسلمین شهریاری نے تمام مہمانوں اور علما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالم اسلامی کی ترقی کے لیے نیک تمناوں کا اظھار کیا۔

4007496

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: